.

ان گنت تہذیبوں کا گواہ دریائے دجلہ انسانوں کے ہاتھوں ختم ہونے جا رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دریائے دجلہ جس نے پوری تاریخ میں باغِ عدن، سمر اور بابل جیسی بڑی سلطنتنوں اور تہذیبوں کو سیراب کیا آج عراق میں غیر منصفانہ انسانی سرگرمیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں موت سے لڑ رہا ہے۔ دریائے دجلہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دریائے دجلہ خطرے سے دوچار ہے اور یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ یہ دریا اپنے اختتام کے قریب ہے۔

42 ملین کی آبادی والے اور تہذیب و زراعت کا منبع سمجھے جانے والے ملک عراق میں ان گنت قدرتی آفات اس دریا کی سانسیں تقریباً روک رہی ہیں، جیسا کہ اونچائی سے لیے گئے اس کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح پانی کی مقدار کم ہو رہی ہے۔

مزید پانی کے تالاب نہیں

دریائے دجلہ بارشوں میں کمی اور ترکی میں بنائے گئے ڈیموں کی وجہ سے متاثر ہوا جہاں سے یہ دریا نکلتا ہے، جس سے رہائشیوں کو اپنا طرز زندگی بدلنا پڑا۔

تصویروں میں دریا کے کناروں سے شمال میں منبع سے لے کر جنوب میں سمندر تک دکھایا گیا ہے۔ دریا میں پانی کی مقدار اور اس کا بہاؤ کم ہوتا جا رہا ہے۔

بعض جگہوں پر دریا بارش کے پانی کے گڑھوں کی طرح نظر آتے تھے۔ جہاں دریائے دیالی میں پانی کے چھوٹے تالابوں تک اس کا کوئی حصہ نہیں بچا۔

قابل ذکر ہے کہ عراقی حکام اور کسانوں نے ترک کردستان کے کردوں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ عراق پہنچنے سے قبل اس ندی پر بنائے گئے ڈیموں میں پانی روک کر اسے کاٹ رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار سے ظاہرہوتا ہے کہ اس سال ترکی سے آنے پر دریائے دجلہ کی سطح پچھلے 100 سالوں کے دوران عراق میں آنے والی اوسط سطح کے 35 فیصد سےکم تھی۔

بین الاقوامی انتباہات

یہ اطلاع ہے کہ مارچ 2022 کے آخر تک ملک کے مرکز اور جنوب کے دس صوبوں میں 3,300 سے زائد خاندان "موسمیاتی عوامل" کی وجہ سے بے گھر ہوئے تھے۔ اگست میں بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مقامی آبادی کی بڑی تعداد نقل مکانی کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ اور کئی غیر سرکاری تنظیموں نے گذشتہ جون میں خبردار کیا تھا کہ پانی کی کمی اور پائیدار زراعت اور غذائی تحفظ کو درپیش چیلنجز عراق میں "دیہی-شہری نقل مکانی کے اہم محرکات" میں سے ہیں۔

ورلڈ بینک نے 2021 کے آخر میں یہ بھی خبردار کیا تھا کہ 2050 تک "درجہ حرارت میں ایک ڈگری سیلسیس کا اضافہ اور بارش میں 10 فیصد کمی سے ملک میں دستیاب میٹھے پانی میں 20 فیصد کمی واقع ہو جائے گی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں