.

فلسطینی دھڑوں میں اتحاد کیلئے الجزائر مذاکرات اکتوبر میں طے، کامیابی کے امکانات محدود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر اکتوبر کے پہلے ہفتے میں فلسطینی تنظیموں "فتح" اور "حماس" کے وفود کی میزبانی کر رہا۔ الجزائر میں فلسطینی دھڑوں میں مفاہمت اور تقسیم کے خاتمے کے مذاکرات کئے جائیں گے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ماضی کے کئی مذاکرات کی طرح اس مرتبہ بھی دونوں فلسطینی جماعتوں کے اتحاد سے جو امید وابستہ کی جاسکتی ہے وہ ’’ نا امیدی‘‘ ہی ہے۔

منگل کو شروع ہونے والی ملاقاتوں میں فتح کے وفد کی سربراہی محمود العلول اور حماس کے وفد کی سربراہی خلیل الحیہ کر رہے ہیں۔ محمود العلول اپنی جماعت کے نائب سربراہ اور خلیل الحیہ اپنی جماعت کے سیاسی بیورو کے رکن ہیں۔

دونوں وفود کے ارکان نے بتایا کہ الجزائر کی اس کاوش کو دونوں جماعتوں نے بہت سراہا ہے۔ لیکن ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے فلسطینی فیصلے کی ضرورت ہے۔ دونوں جماعتوں میں بڑے پیمانے پر اختلافات ہیں۔ اسی بنا پر دونوں کے درمیان مفاہمت آج بھی مشکل اور غیر حقیقی ہے۔

ان اختلافات کی تاریخ 2006 سے شروع ہوتی ہے جب پارلیمان الیکشن میں حماس نے اکثریت حاصل کی اور ایسی حکومت قائم کی جسے عالمی حمایت سے محرومی کے باعث سخت مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور کسٹم کی آمدنی کو منجمد کردیا۔ یہ حکومت اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور بنیادی خدمات کی فراہمی سے بھی قاصر ہوگئی ۔

2007 میں حماس اور فتح میں تنازعات اور جھڑپوں کے بعد حماس نے بزور اسلحہ غزہ کی پٹی کا اقتدار حاصل کرکے اسی پر اکتفا کرلیا۔ مغربی کنارہ میں فتح کے زیر تحت فلسطینی اتھارٹی نے اپنی حکومت قائم کرلی۔

فلسطینی مفاہمت کی کوششیں

دونوں جماعتوں کے درمیان اس کے بعد کئی مرتبہ مفاہمت کرانے کی کوششیں کی گئیں مگر کوئی بھی کوشش بار آور نہ ہو سکی۔

پہلا قاہرہ معاہدہ

تقسیم سے قبل فلسطینی قومی اتحاد کے حصول کے لیے پہلا اقدام 2005 میں قاہرہ میں ہونے والے ایک قومی مکالمے میں کیا گیا۔ اس مکالمے کے تحت اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ "حماس" اور "جہاد الاسلامی " فلسطین لبریشن آرگنائزیشن یعنی پی ایل او میں شامل ہوں گی اور ایسی قومی کونسل کی تشکیل دی جائے گی جو ہر فلسطینی کی نمائندگی کرے گی اور عام انتخابات میں شریک ہوگی۔

قومی معاہدے کی دستاویز

2006 کے الیکشن کے بعد حماس اور فتح کی تحریکوں کے درمیان اختلافات بڑھنے سے فلسطینی سیاست دو محوری ہوگئی۔

اس وقت مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے قومی اتحاد کیلئے ایک اقدام پیش کیا جسے ’’ قومی معاہدہ کی دستاویز‘‘ کہا جاتا ہے۔

ان دستاویز میں مختلف فلسطینی قوتوں کے لیے ایک مشترکہ سیاسی پروگرام طے کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کی بنیاد مشرقی القدس کے دارالحکومت کے طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کرنا تھا۔ ان دستاویز میں ایسی قومی اتحاد کی حکومت بنانے کی بھی بات کی گئی تھی کہ جس میں قانون ساز کونسل میں مختلف پارلیمانی بلاکس شامل ہوں۔

مکہ معاہدہ

سعودی عرب نے فروری 2007 میں مکہ مکرمہ میں "فتح" اور "حماس" تحریکوں کے درمیان ایک مکالمے کی میزبانی کی۔ اس مکالمے کے نتیجے میں ایک قومی معاہدہ تشکیل پایا جسے ’’ مکہ معاہدہ‘‘ کا نام دیا گیا ۔

اس معاہدہ کے بعد ایک قومی معاہدے کی حکومت تشکیل دی گئی۔ اس حکومت نے اسرائیل سے کسٹم محصولات کی منتقلی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی۔اس نے غیر ملکی امداد خاص طور پر سعودی سمیت عرب ممالک کی امداد کے کچھ حصے کی واپسی کی بھی اجازت دے دی۔

یہ معاہدہ اس وقت ٹوٹ گیا جب کئی ماہ کے بعد "حماس" نے غزہ کی پٹی میں اتھارٹی کے اداروں کو مسلح طاقت کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس کے بعد رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آ گیا۔ فلسطینی اتھارٹی کی قیادت میں سلام فیاض کی قیادت میں ایک متبادل حکومت تشکیل دی گئی۔

اس نئی حکومت نے فلسطین میں ایک نی سیاسی اور آبادیاتی حقیقت تشکیل دی۔ اس حقیقت کے تحت غزہ کی پٹی اور حماس نے چلایا اور فتح کے زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی نے مغربی کنارے کو چلانا شروع کردیا۔

صنعاہ معاہدہ

اگلے سال 2008 میں یمن نے " فتح" اور ’’ حماس‘‘ کے وفود سے ملاقات کی، فتح کے وفد کی قیادت فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن عزام الاحمد کر رہے تھے۔ حماس کے وفد کی قیادت جماعت کے سیاسی بیورو کے رکن موسی ابو مرزوق کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں بھی تقسیم کے خاتمے کیلئے ایک معاہدہ طے پایا اور اس معاہدے کو ’’ صنعا معاہدہ‘‘ کا نام دے دیا گیا۔

یمن کے مرحوم صدر علی عبداللہ صالح کی سرپرستی میں طے پانے والے اس معاہدے میں وطن، سرزمین، عوام اور اتھارٹی کے اتحاد پر زور دیا گیا۔ معاہدہ میں تقسیم کے خاتمے کیلئے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا کہا گیا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ کی پٹی کو حماس کے قبضہ سے قبل کی حالت میں واپس لایا جائے گا۔ تاہم ان شقوں پر عمل نہ ہوسکا اور یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔

سمندر کنارے معاہدہ

2014 میں غزہ میں ایک قومی مکالمے کے دوران ایک نیا معاہدہ طے پایا جسے ’’بیچ ایگریمنٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس معاہدہ میں قومی اتحاد کی حکومت قائم کرنے کی بات کی گئی تاہم یہ معاہدہ بھی نقش برآب ثابت ہوا اور اپنے نفاذ کے طریقہ میں اختلافات کے باعث جلد ہی اختتام کو بھی پہنچ گیا۔ اس موقع پر مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں اتھارٹی کے اداروں میں اتحاد کرنے کے حوالے سے اختلافات شدت اختیار کرگئے تھے۔

قاہرہ کے متعدد معاہدے

اس مرتبہ پھر مصر نے "فتح" اور "حماس" تحریکوں کے درمیان مذاکرات کی ایک سیریز کی میزبانی کی۔ ان مذاکرات میں مفاہمت اور تقسیم کے خاتمے کیلئے کئی معاہدے طے پائے تھے۔ لیکن حسب معمول عمل درآمد کی سٹیچ پر پہنچنے سے پہلے ہی کہیں گم ہوگئے۔

قاہرہ میں سب سے نمایاں معاہدہ 2009 میں ہوا تھا۔ اس میں فلسطینی قومی معاہدے کی دستاویز کو بنیاد کے طور قبول کیا گیا تھا۔ 2011 میں اسی دستاویز کی توثیق کرتے ہوئے دونوں تحریکوں کے درمیان مفاہمت کا ایک اور معاہدہ ہوا لیکن یہ معاہدہ بھی نہ چل سکا۔ پھر 2017 میں قاہرہ میں ایک نیا مفاہمتی معاہدہ طے کرکے بھی دیکھ لیا گیا مگر اس پر عمل میں بھی ہر مرتبہ کی طرح پھر رکاوٹیں حائل ہوگئیں۔

استنبول کی مفاہمت

فلسطینیوں کو متحد کرنے کیلئے اس مرتبہ ترکیہ نے اقدام کیا۔ 2020 میں حماس اور فتح کے وفود نے استنبول میں ایک نیا معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدے کے تحت قانون ساز کونسل کے الیکشن، اس کے بعد صدارت کے الیکشن اور پھر قومی کونسل کیلئے الیکشن طے کئے گئے تھے۔ انتخابات منسوخ ہونے کے بعد یہ مفاہمت بھی ٹوٹ گئی۔ انتخابات کی منسوخی اس مرتبہ اسرائیل کی جانب سے مشرقی القدس میں الیکشن کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے تھی۔

ناکامیوں کی وجہ

تقسیم کےطویل دورانیے میں حماس اور فتح نے اپنے اپنے زیر نگیں علاقوں میں سینکڑوں مختلف قوانین نافذ کرلئے ہیں۔ خاص طور پر حماس نے غزہ کی پٹی میں سکیورٹی سے لیکر سول اداروں تک میں ساخت کی تبدیلیاں کردی ہیں۔ تقسیم کو ختم کرتے ہوئے یہ تبدیلیاں نئی مشکلات کا باعث بن جاتی ہیں اور مفاہمت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پاتی۔

حماس، اسلامی جہاد اور دیگر دھڑوں نے غزہ کی پٹی میں عسکری ونگ قائم کر لئے ہیں۔ ان ونگز کے ذریعہ ان جماعتوں نے ریاستوں جیسی فوجی صلاحیتیں جمع کرلی ہیں۔ دوسری طرف فتح کے زیر تحت فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل کے ساتھ معاہدے ہونے کی وجہ سے اس اتھارٹی کے اختیارات محدود ہوتے ہیں اور یہی فرق فلسطینیوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیتا۔

فلسطینی مکالمے پر نظر رکھنے والے مصنف ہانی المصری نے مختلف معاہدوں پر عمل میں ناکامی کی وجہ فریقین کے سیاسی شراکت میں عدم اعتماد کو بھی قرار دیا ہے۔

ان کے بقول صدر محمود عباس چاہتے ہیں کہ حماس فلسطینی اتھارٹی سے منسلک رہے لیکن اس میں شراکت دار نہ بنے۔ دوسری طرف حماس غزہ کی پٹی پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں