.

سعودی عرب سے اگلے سال پہلی خاتون خلا نورد خلائی مشن پر روانہ ہوں گی

خلائی کمیشن سعودی ولی عہد کے ویژن 2030 کی روشنی میں آگے بڑھایا جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے نیا پروگرام خلائی پروگرام شروع کر دیا ہے۔ اس خلائی مشن میں پہلی بار ایک ئیں گی۔ خاتون کو دو ہزار تئیس میں خلائی مشن پر روانہ کیا جائے گا۔ اس امرکا اعلان سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کے ذریعے کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے [ایس پی اے] کے مطابق اس سعودی خلائی مشن کی مزید تفصیلات اگلے ماہ جاری کی جائیں گی۔ مملکت سعودیہ اپنے خلائی پروگرام کو ترقی دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ جس طرح کہ متحدہ عرب امارات اپنا خلائی پروگرام ڈویلپ کرنے کی کوشش میں ہے۔ متحدہ عرب امارات آجکل ایک خاتون خلاباز نور المتروشی کو مریخ پر بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

سعودی عرب نے اپنا پہلا خلائی مشن 1985میں بھیجا تھا۔ اس مشن کے تحت خلا میں جانے والے سعودی شاہی خاندان کے شہزادہ سلطان بن سلمان پہلے عرب، پہلے مسلمان اور سعودی شاہی خاندان کے پہلے فرد کے طور پر سامنے آئے۔

پہلے سعودی شہزادے کے طور پر شہزادہ سلطان بن سلمان کے خلائی سفر سے واپسی کو ماہ جون میں 37 سال مکمل ہوئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے 'العربیہ ' سے بات کرتے ہوئے کہا ' سعودی خلائی کمیشن کا قیام باقاعدہ طور پر 2018 میں عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کا حصہ ہے۔ اس خلائی شعبے کی سربراہی تین سال کے لیے شہزادہ سلطان نے کی اور سعودیہ کے خلائی سفر کے لیے ایک نیا پروگرام تشکیل دیا گیا۔ '

شہزادہ سلطان بن سلمان اس پروگرام کے سلسلے میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مشیر مقرر ہوئے ہیں جبکہ عبداللہ بن عامر السواحا کو خلائی کمیشن کا چئیرمین مقرر کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں