.

ایرانی مظاہروں کی لہر مزید شہروں تک پہنچ گئی، انٹیلی جنس احتجاج میں شرکت پروارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ایک ہفتہ قبل ایک نوجوان لڑکی کی حجاب نہ کرنے کے الزام میں پولیس کی حراست میں ایک لڑکی کی ہلاکت کے واقعے کے بعد اس کے خلاف احتجاج کا دائرہ مسلسل وسیع ہور ہا ہے۔

ایران میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی گرفتاری کے بعد ہلاکت کے پس منظر میں مسلسل چھٹے روز بھی احتجاج جاری ہے۔ایرانی کردستان کے صدر مقام سنندج کی گلیوں میں رات کو جھڑپیں جاری رہیں۔ اس موقعے پر فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں۔

مظاہرین نے ملک کے مغرب میں واقع شہر "اشنویہ" میں ایک پولیس ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا اور یہ مظاہرے تبریز اور اہواز تک پھیل گئے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کلپ میں اہواز میں مظاہرین پر گولی چلاتے اور ان میں سے ایک کو زخمی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے خبردار کیا ہے کہ مظاہروں میں شرکت قانون کے خلاف ہے اور مظاہرین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

وزارت انٹیلی جنس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مخالف انقلابی تحریکوں نے حالیہ واقعات کا فائدہ اٹھایا ہے۔ ایسے غیر قانونی اجتماعات میں موجودگی یا شرکت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ایران کے نیٹ بلاکس گروپ جو انٹرنیٹ کی رکاوٹوں پر نظر رکھتا ہے نے جمعرات کو ٹویٹر پر کہا کہ ایران میں موبائل انٹرنیٹ پرنئی پابندی سامنے آئی ہے۔ یہ پابندی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں ایک نوجوان لڑکی کی مبینہ ہلاکت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد لگائی گئی ہے۔

درایں اثنا ایرانی پاسداران انقلاب نے ملک کی عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ نوجوان خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بارے میں "جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانے والوں" کے خلاف مقدمہ چلائے۔ پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی لہرکے پیچھے جھوٹی اور من گھڑت خبریں ہیں۔

تہران سمیت ایران کے متعدد شہروں میں مظاہرین نے جمعہ کے روزمیں دو پولیس اسٹیشنوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جب کہ بدامنی آج ساتویں روز بھی جاری ہے۔ احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔

22 سالہ مہسا امینی کی گذشتہ ہفتے’اخلاقی پولیس‘ کی حراست میں موت واقع ہوئی تھی۔ یہ پولیس ایران میں لباس اور مذہبی امورپر نظر رکھنے اور اس نوعیت کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کی ذمہ دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں