اردن میں اعلیٰ فوجی عدالت کے پبلک پراسیکیوٹر نے اپنی بیوی اور بیٹا قتل کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل جمعہ کے روز اردن کی اعلیٰ فوجی عدالت کے پبلک پراسیکیوٹر نے اپنی 43 سالہ بیوی اور 16 سالہ بیٹے کو قتل کریا۔ اس واقعے کے بعد اردن میں عوامی حلقوں میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

قتل کی یہ واردات شمالی اردن کی جرش گورنری کے علاقے دبین میں پیش آیا۔ فوجی عدالت کے پراسیکیوٹر نے اپنے ذاتی فارم ہاؤس پربیوی اور بچے کو گولیاں مار کر قتل کیا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اس کیس کی ملنے والی تفصیلات میں پتا چلا ہے کہ ہائی کریمنل کورٹ کے پبلک پراسیکیوٹر نے اپنی بیوی اور بیٹے کو گولی مار دی۔ انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا مگر وہ جلد ہی وہ دم توڑ گئے۔ واقعے کے بعد ملزم نے خود ہی جا کر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس نے واقعے کی انکوائری شروع کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پراسیکیوٹر کے خاندان میں کسی بات پراختلاف تھا۔ دونوں کے درمیان عدالت میں ایک دوسرے کے خلاف ایک کیس بھی چل رہا تھا، تاہم فارم ہاؤس میں جب قتل کی واردات ہوئی تو سولہ سالہ بیٹا بھی موجود تھا جو فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوگیا۔

پبلک پراسیکیوٹر قتل کے بعد زیادہ دیر نہیں لگائی بلکہ جلد ہی خود کو سیکورٹی سروسز کے حوالے کر دیا تاکہ انصاف فراہم کیا جا سکے۔

اپنی طرف سےعمان میں پبلک پراسیکیوٹر نے جراش گورنری میں اپنی بیوی اور بیٹے کے قتل میں ملوث "معروف قانونی شخصیت" کے کیس سے متعلق کسی بھی معاملے یا معلومات کی اشاعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔

پبلک پراسیکیوٹر نے آڈیو ویژول میڈیا اور سوشل میڈیا سے کہا ہے کہ وہ اس موضوع یا ابتدائی تفتیش کے انعقاد سے متعلق کوئی بھی معلومات شائع نہ کریں۔

پبلک پراسیکیوٹر کے سرکلر میں کیس کی قانونی اہلیت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے جرمانے کی تحقیق بند کرنے اور کیس سے متعلق کسی بھی تصویر یا ویڈیوز کی گردش یا دوبارہ اشاعت کو روکنے کی ہدایت کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں