ایران میں سرنہ ڈھانپنے کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاون میں 50 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں سر پر سکارف نہ لینے والی لڑکی کے پولیس کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 50 افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان احتجاج کرنے والوں کو کریک ڈاون کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔

ایرانی امور کو دیکھنے والی اوسلو میں قائم این جی او کے مطابق ہلاکتوں میں تیزی اس وقت آئی جب جمعرات کی رات چھ افراد کوشمالی صوبہ جیلان کے قصبے ریفانشہر میں قتل کیا گیا۔ بابول اور امول میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مہیسہ امینی کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر ایک ہفتے کے دوران ایران کے کم و بیش 80 چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج پھیل چکا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کے مطابق امینی کا تعلق شمالی کردستان کے علاقے سے تھا۔ اس لیے کردستان میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

این جی او کا کہنا ہے کہ پچاس لوگ مارے جا چکے ہیں اور لوگ اپنے حقوق اور وقار کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔'

اس بارے میں انٹرنیشنل ہیومن رائیٹس کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ' بین الاقوامی برادری کو ضرور ان مظاہرین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس وقت ایران میں سب سے جابر رجیم ہے۔ واضح رہے ایرانی حکام نے سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد 17 بتائی ہے۔ ان میں سات سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں