غربِ اردن:کارچڑھانےکے مبیّنہ واقعہ میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے ہفتے کے روزایک فلسطینی ڈرائیور کوگولی مار کر شہید کردیا ہے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فلسطینی نے اپنی گاڑی فوجیوں پر چڑھانے کی کوشش کی تھی جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ٹریفک حادثہ تھا۔

صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ فوجیوں اور پولیس نے مغربی کنارے کے شمال میں واقع شہرنابلس کے نواح میں گشت کے دوران میں ایک گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی تھی جب ڈرائیور نے انھیں کچلنے کی کوشش کی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے حملہ آور کو’ناکارہ‘ کردیا۔فلسطینی وزارت خارجہ نے ڈرائیور کی شناخت 36 سالہ محمد علی حسین عواد کے نام سے کی ہے۔اس کا تعلق مقبوضہ بیت المقدس کے قریب مغربی کنارے کے قصبے بیت اجزا سے تھا۔

وزارت نے کہا کہ اسرائیلی پولیس نے جان بوجھ کر عواد کو گولی ماری ہے۔اس کا مقصد اسے قتل کرنا تھا کیونکہ اس کی گاڑی ٹریفک حادثے میں پولیس کی ایک گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔

بیان میں اسرائیلی فورسز پرالزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے ایک ’’بے بس فلسطینی‘‘کو قتل کیا ہے جو کوئی خطرہ پیدا نہیں کررہا تھا‘‘۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی چھے روزہ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ صہیونی فوج آئے دن اپنی فوجی گاڑیوں اور چیک پوائنٹس پر مبیّنہ حملوں کے الزام میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کرتی رہتی ہے اور اس کو فلسطینیوں کے خلاف مہلک طاقت کے بارباراستعمال پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

اسرائیل میں یہودکے نئے سال روش ہشانہ کے ساتھ اتوار کی شام سے شروع ہونے والے تعطیلات کے موسم سے قبل سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

غربِ اردن کے شمالی شہروں اور قصبوں بالخصوص جنین اور نابلس میں مارچ کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پربدامنی دیکھی جا رہی ہے۔اسرائیلی فوج نے مبیّنہ حملہ آورفلسطینیوں کے تعاقب میں اس علاقے میں سیکڑوں چھاپا مارکارروائیاں کی ہیں اور ان کے ردعمل میں جھڑپوں میں مزاحمت کاروں سمیت درجنوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں