محمود عباس کا اسرائیل سے فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپیڈ کی طرف سے دو ریاستی حل کے مطالبے کا خیرمقدم کیا لیکن جمعہ کو انہوں نے کہا کہ ایسی خواہش کا اصل امتحان مذاکرات کی میز پر فوری واپسی ہے۔

محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پہلے مزید کہا کہ اس موقف کی سنجیدگی اور ساکھ کا اصل امتحان اسرائیلی حکومت کا فوری طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہے۔

ان کا خیال تھا کہ اسرائیل جان بوجھ کر دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور اسے امن عمل میں مزید قابل اعتماد پارٹنر تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل جو بین الاقوامی قراردادوں سے انکار کرتا ہے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امن عمل میں ہمارے لیے شراکت دار نہیں بنے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اس قبضے کو برقرار رکھا ہے اور ہمارے پاس اس کے ساتھ موجودہ تعلقات پر نظر ثانی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ ہم واحد فریق رہیں جو ہم نے 1993 میں اسرائیل کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کی۔ مگر دوسری طرف اسرائیل نے ان معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیاں کی ہیں۔

محمود عباس نے زور دے کر کہا کہ یہ ہمارا حق بن گیا ہے اور ہماری ذمہ داری بھی بن گئی ہے کہ ہم اپنے حقوق کے حصول اور انصاف پر مبنی امن کے حصول کے لیے دوسرے ذرائع تلاش کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں