مصرمیں موت کے بعد جسمانی اعضا عطیہ کرنےکی سرکاری سطح پر رجسٹریشن پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متعدد فنکاروں کی جانب سے موت کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کرنے کی سفارش کے بعد ایک قابل ذکر اقدام کے طور پرمیں مصر موت کے بعد کسی بھی شہری کی وصیت کے مطابق اس کے اعضا عطیہ کرنے کی سرکاری سطح پرمنظوری پرغور کررہا ہے۔

مصری صدر کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر محمد عوض تاج الدین نے کہا کہ قومی شناختی کارڈ میں اعضاء کے عطیہ کے انتخاب کو شامل کرنے کے لیے فی الحال ایک مطالعہ جاری ہے۔ یہ عمل دنیا کےکئی ممالک میں کیا جاتا ہے۔

لازمی نہیں

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کوبتایا کہ عطیہ کرنے والا کسی بھی وقت اپنی خواہش کو واپس لے سکتا ہے، ساتھ ہی اس کے اہل خانہ بھی اور خاندان والے بیٹے کی موت کے بعد اس کے اعضاء عطیہ کرنے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اس وقت ان کی خواہش اور درخواست کا جواب کسی معمولی پریشانی کے بغیر دیا جائے گا۔ انہوں نےکہا کہ اس بات پر زور دیا جائے گا کہ موت سے پہلے کی خواہش لکھ دی جائے تو بھی یہ لازمی نہیں ہوگی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جگر اور گردے کی پیوند کاری کی ضرورت ہے، اور مستقبل قریب میں پھیپھڑوں کی پیوند کاری کے لیے دیگر درخواستیں بھی آئیں گی۔ اس کے لیے ان میں سے بہت سے اعضاء کی موجودگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکرکیا کہ اس وقت اعضاء کی پیوند کاری کے لیے واحد طریقہ زندہ شخص کا گردہ دوسرے کو منتقل کرنے کا دستیاب ہے۔ ہم ابھی تک میت سے زندہ کو اعضاء کی منتقلی تک نہیں پہنچے۔

رئیل اسٹیٹ رجسٹری میں دستاویزات

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب فنکار الہام شاہین نے اپنی موت کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کرنے کی خواہش کا ایک بار پھر اعلان کیا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے رئیل اسٹیٹ کے مہینے میں یہ تجویز تحریر کردی تھی اور اپنے بہن بھائیوں کو آگاہ کیا تھا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیج پر ایک ویڈیو کے ذریعے کہا کہ وہ اس کے لیے سب سے پہلی خاتون فن کارہیں جنہوں نے اعضا عطیہ کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ ان سے قبل ڈاکٹر منتصرنے یہ آواز اٹھائی تھی کہ موت کے بعد کسی شخص کے اعضاء عطیہ کرنے سے کسی کی زندگی بچ سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں