آئل ٹینکر بحری جہاز ’’ صافر‘‘ کے خطرات سے بچاؤ کیلئے سعودیہ کا 10ملین ڈالر کا تعاون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب یمنی ساحل کے قریب لنگر انداز 101 ملین بیرل آئل پر مشتمل بحری جہاز ’’ صافر ‘‘ کے خطرات سے بچاؤ کیلئے 10 ملین ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب میں شاہی عدالت کے مشیر اور کنگ سلمان مرکز برائے انسانی و بحالی امداد کے جنرل سپروائزر عبد اللہ الربیعہ نے نیو یارک میں خستہ حال بحری جہاز ’’ صافر‘‘ سے لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے یمن کیلئے انسانی ہمدردی کے کاموں میں سرگرم ڈیوڈ گریسلی کے ساتھ ملکر اس حوالے سے مفاہمت پر دستخط بھی کردئیے۔

سعودی پریس ایجنسی ، ایس پی اے‘‘ کے مطابق مفاہمت پر دستخط اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس کے موقع پر کئے گئے ہیں۔

بحری جہاز سے لاحق خطرات

اس موقع پر فریقین نے یمن میں کی جانے والی انسانی اور بحالی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا اور آئل ٹینکر بحری جہاز ’’ صافر‘‘ سے درپیش انسانی، اقتصادی اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے اور انہیں بے اثر کرنے کے ضروری اقدامات پر بھی گفتگو کی۔

عبد اللہ الربیعہ نے کہا مملکت سعودیہ کا یہ تعاون ’’ صافر ‘‘ کو بچانے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی ممکنہ آفت کو روکنے کیلئے عالمی کوششوں کی حمایت کیلئے ہے۔ اس بحری جہاز میں 10 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل موجود ہے جو کسی بھی وقت نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

مربوط بین الاقوامی کوششیں

الربیعہ نے زور دیا کہ خستہ حال ٹینکر بحری جہاز سے لاحق ممکنہ خطرات کو روکنے کیلئے مربوط بین الاقوامی کوششیں ناگزیر ہیں۔ بحری جہاز سے تیل کے رساؤ کی صورت میں پوری دنیا بھر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

اس موقع پر ڈیوڈ گریسلی نے یمن میں استحکام اور عالمی امن و امان برقرار رکھنے کیلئے کی جانے والی سعودی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے یہ آئل ٹینکر بحری جہاز یمن کے ساحل سے 6 میل دور لنگر انداز ہے۔ گرین پیس ریسرچ لیبارٹریز کی تحقیق کے مطابق ’’ صافر‘‘ میں کسی دھماکے یا اس سے آئل کا رساؤ تاریخ میں تیل کے اخراج سے آنے والی سب سے خطرناک آفت بن سکتا ہے۔

حوثیوں کی جانب سے تیرتے آئل ٹینک کو برقرار رکھنے اور اسے خالی کرنے کی اجازت دینے کے وعدوں سے مکرجانے کے بعد اقوام متحدہ نے اپنے ماہرین کی ٹیم کا دورہ ایک سے زیادہ مرتبہ ملتوی کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں