سعودی عرب میں سال2022ء میں تپ دق کے کیسز میں 21 فیصد کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ 2015ء کے مقابلے میں سال 2022 کے دوران تپ دق کے کیسز کی شرح میں 21 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ وزارت صحت نے عندیہ دیا کہ تپ دق سے نمٹنے کا قومی پروگرام 2015 کے مقابلے میں اموات کی شرح میں 12.3 فیصد کمی کرنے میں کامیاب ہوا، جبکہ کامیابی کی شرح سال 2021 کے دوران علاج کے کیسز کی شرح 89.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ ریاض، مکہ المکرمہ، مدینہ، عسیر، جازان، شرقیہ اور جدہ گورنری کے علاقوں میں سال 2022 کے لیے فیلڈ ٹیموں کے ذریعے فالو اپ کیے جانے والے کیسز کی تعداد 1622 تک پہنچ گئی۔

ایک بیان میں وزارت صحت کا کہنا ہے تپ دق سے نمٹنے کے قومی پروگرام نے پہلے سے طے شدہ طور پر تپ دق کے عالمی دن کو فعال کر دیا۔ سعودی عرب میں تپ دق کے 233 ہیلتھ کیڈرز کے ذریعے اس بیماری کی روک تھام کی کوشش کی جاتی اور اس کے لیے چوبیس مارچ کا دن خاص طور پرمنایا جاتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ تپ دق ایک متعدی بیماری ہے جس میں ایک شخص "مائکوبیکٹیریم" نامی بیکٹیریا کے انفیکشن کے نتیجے میں متاثر ہو جاتا ہے جو کہ پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور جسم کے دیگر حصوں بشمول گردے، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ پوری دنیا میں ہرسال تقریباً 4,000 لوگ تپ دق سے فوت ہوتے ہیں، جبکہ تقریباً 28,000 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔

تپ دق سے نمٹنے کی عالمی کوششوں نے 2000 سے اب تک ایک اندازے کے مطابق 63 ملین جانیں بچائی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں