سعودی عرب میں پبلشرز کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

8 پینل مباحثے، 5 ورکشاپس اور علاقائی اور عالمی ماہرین کے درمیان ملاقاتیں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں منگل 27 ستمبر کو پبلشرزکانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا ریاض کے جے ڈبلیو میریٹ ہوٹل میں آغاز ہوگیا۔ کانفرنس کا انعقاد لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن اتھارٹی نے سعودی پبلشنگ ایسوسی ایشن کے تعاون سے کیا ہے۔ کانفرنس میں دنیا کی مختلف قومیتوں کے ناشرین، تقسیم کاروں، ماہرین اور ثقافتی سفیروں کا ایک گروپ شرکت کر رہا ہے۔

کانفرنس میں 8 پینل مباحثوں ، 5 ورکشاپس اور علاقائی اور بین الاقوامی ماہرین اور پیشہ ور افراد کے درمیان ملاقاتوں کے پروگرام شامل ہیں۔ ان پروگراموں میں کتاب اور اشاعتی صنعت کے تمام اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ کتاب کے مستقبل کے امکانات، مارکیٹ کے موجودہ رجحانات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ خاص طور پر آڈیو کتابوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کی روشنی میں ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سروسز کے اثرات کو دیکھا جائے گا۔ مباحثوں میں تعلیمی اشاعت میں جدت کے طریقے بھی تلاش کئے جائیں گے۔

کانفرنس کے آغاز میں افتتاحی سیشن "عالمی سطح پر کتاب پبلشنگ انڈسٹری کے مراحل‘‘ کے عنوان سے رکھا گیا ہے۔ اس سیشن سے سعودی پبلشنگ ایسوسی ایشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین عبدالکریم العقیل اور انڈونیشیائی پبلشرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل محمد نور خلیس رضوان نے خطابات کرینگے۔ دوسرا سیشن "آڈیو بک مارکیٹ کا عروج: موجودہ رجحانات" کے عنوان سے ہوگا۔جس میں سٹوری ٹیل ’’مینا‘‘ کے صدر سیباسٹین بانڈ، وجیز کے بانی محمد زعترہ ، اور کاملائزر کے بانی اور سی ای او اور ’’ اقرأ لی‘‘ کے ہیڈ آف انوویشن حنان عبدالمجید اور دیگر خطاب کریں گے۔ ایک سیشن "کہانی کا مستقبل: جہاں تخیل اور اختراع ملتے ہیں " کے عنوان سے ہوگا۔ چوتھے سیشن کا عنوان "کتاب کی زبان اور ثقافت کی حدود سے تجاوز کرنے کی صلاحیت‘‘ ہوگا۔ پانچواں سیشن "مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں کتابوں کی صنعت میں غیر استعمال شدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانا" سے متعلق ہوگا۔

کانفرنس کے دوسرے دن 3 سیشن منعقد کیے جائیں گے۔ پہلے سیشن کا عنوان "ایک موثر ڈیٹا سینٹرک پبلشنگ سسٹم کیسے تیار کیا جائے" رکھا گیا ہے۔ دوسرے سیشن کا عنوان "بچوں اور نوجوانوں کے لیے مواد: کتابی صنعت میں جدید رجحانات" ہے۔

تیسرے اور آخری سیشن "سعودی عرب میں اساتذہ، طلبہ اور لائبریریوں کے لیے بہترین تعلیمی مواد کیسے فراہم کیا جائے" کے عنوان سے ہے۔

کانفرنس میں پانچ ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ پہلے دن ایک ورکشاپ " ایڈیٹر کا کردار" کے عنوان سے ہے۔ اسے نازلی بیریوان نے پیش کیا ۔ دوسرا عنوان "دی سیلف پبلشنگ سیکٹر" ڈینیئل گرسٹن پیش کریں گے۔ دوسرے روز تین ورکشاپس ہوں گی۔ ياسمينة جرصاتي کی طرف سے پیش کردہ ورکشاپ "ادبی ایجنٹ کی ملازمت" ہے۔ احلام بن عثمان کی پیش ورکشاپ کا عنوان "کتابوں کی صنعت میں سعودی افراد کی پیشہ ورانہ تعلیم کیلئے حوصلہ افزائی کیسے کی جائے‘‘ ہے۔ " مصنف کا انٹرویو” کے نام سے ورکشاپ ٹام ہڈسن پیش کر رہے ہیں۔

واضح رہے یہ بین الاقوامی پبلشرز کانفرنس لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن اتھارٹی کی کوششوں کے فریم ورک کے اندر آتی ہے جس کا مقصد سعودی عرب اور عرب دنیا میں اشاعتی صنعت کو منظم کرنا اور اسے بین الاقوامی معیار کی سطح پر لانا ہے۔

یہ کانفرنس ریاض بین الاقوامی کتاب میلہ 2022 کے آغاز کا پیش خیمہ ہے۔ ریاض عالمی کتاب میلہ 29 ستمبر سے شروع ہوکر 8 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں