عراقی کردستان پر ایرانی حملے سے امریکہ کا شہری بھی ہلاک ۔ امریکی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ عراقی کردستان پر گذشتہ کیے جانے والے ایرانی حملے کے نتیجے میں دوسروں کے ساتھ ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔ ایرانی مزہبی ریاست نے جمعرات کے روز اپنی سرحد سے باہر عراقی کردستان میں حملہ کر کے 13 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ایران کی طرف سے عراقی کردستان میں یہ فضائی حملہ ان حالات میں کیا گیا ہے جب ایک بے پردہ بائیس سالہ مہیسہ امینی کی ایرانی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد ہنگامے جاری ہیں اور بیسیوں مظاہرین سمیت کئی سکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

اس بارے میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان وینڈٹ پٹیل نے کہا ' ہم یہ تصدیق کر سکتے کہ امریکی شہری ایرانی راکٹ حملے کے نتیجے میں عراقی کردستان میں ہلاک ہوا ہے۔' تاہم ترجمان نے ہلاک ہونے والے شہری کے بارے میں مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا۔

جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ اس واقعے کا جواب کیا ہو سکتا ہے ، امریکی ترجمان نے کہا ' امریکہ کے پاس اس سلسلے میں بہت سے طریقے موجود ہیں اور بہت سے راستے ہین جن کے ذریعے ایران کا خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر احتساب کیا جا سکتا ہے۔'

ایران کو امریکی پابندیوں کا تازہ سامنا مہیسہ امینی کی ہلاکت کے بعد بھی کرنا پرا ہے ۔ امینی ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے بھی کام کر رہی تھیں۔ امینی کی ہلاکت کے فوری بعد 16 ستمبر سے ایران میں سخت بد امنی کے حالات ہیں ۔ کم از کم ایران کے 80 شہروں میں ہنگامے جاری ہیں۔

دوسری جانب امریکہ یورپی یونین کے توسط سے ایرانے کے جوہری معاہدے کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہے۔ معاہدہ ممکن ہو جانے کی صورت میں امریکہ ایران پر سے پابندیاں ہٹا دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں