لبنان میں ایران اور اس کی پراکسیز کا مقابلہ کرنا ضروری: امریکہ و اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوان نے کہا ہے کہ امریکہ خطے میں ایران اور اس کی پراکسیز کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دینے کا اعادہ کرتا ہے۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں سلوان نے اپنے اسرائیلی ہم منصب ایال ہولاٹا کے ساتھ اسرائیل اور لبنان کی کے درمیان سمندری سرحد کی جلد از جلد حد بندی کی اہمیت پر گفتگو کی ۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق جیک سلوان نے کہا کہ مغربی کنارہ میں کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اور فلسطینیوں کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ اقدامات امن، سلامتی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہیں۔

ایران کی دھمکیاں

23 ستمبر کو سلوان نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز سے ملاقات کی تھی اور 2015 کے جوہری معاہدے میں ایران کی واپسی پر اور علاقائی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

اسرائیلی وزیردفاع بینی گینٹز
اسرائیلی وزیردفاع بینی گینٹز

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس وقت سلوان اور گینٹز نے گفتگو کی تھی کہ امریکہ پر عزم ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دئیے جائیں۔

کارش فیلڈ

گینٹز نے حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ اور اس کے پشتیبان ایران کو متعدد بار خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان میں سمندری سرحدبندی کے مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے سے باز رہیں اور اسی طرح کارش فیلڈ کے پلیٹ فارم کو کسی طرح کا نقصان پہنچانے سے بھی گریز کریں۔

اسرائیلی اور لبنانی نمائندے کئی ماہ سے امریکی ثالث آموس ہاکسٹین کے ذریعہ سے مشترکہ سمندری سرحدوں کی حدبندی پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس حد بندی سے دونوں ملکوں کو تیل اور گیس کے وسائل کا تعین کرنے میں مدد ملے گی اور سمندر میں مزید ذخائر کو تلاش کرنے کی سرگرمی میں بھی آسانی ہو جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں