مہسا امینی سرپر چوٹ سےہلاک ہوئی: پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران عراق جنگ کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیئر کمانڈروں میں سے ایک محمد باقر بختیار نے پولیس حراست میں ہلاک ہونے والی مہسا امینی کی موت کے متعلق اہم انکشاف کردیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مہسا کی موت سرپر چوٹ سے ہوئی۔ انہوں نے مہسا امینی کی موت پر شدید حیرت کا اظہار بھی کیا۔ مہسا کی موت کے بعد سے ایران بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فرانزک رپورٹس کے نتائج کے مطابق امینی کوما میں چلی گئی اور کھوپڑی پر چوٹ لگنے سے مر گئی۔

"ایران انٹرنیشنل" نیٹ ورک کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ کہ مہیا کی حالت بہتر بنانے کے لیے اسے اندرونی خون بہنے کی وجہ سے کسریٰ ہسپتال منتقل کیا گیا تو مہسا امینی کی خراب تلی کو اس کے جسم سے نکال دیا گیا تھا ۔ لیکن وہ اپنی کھوپڑی میں چوٹ لگنے کی وجہ سے کوما میں چلی گئی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ معلومات حکومت کے اندر سے باضمیر افراد نے لیک کی ہیں۔

چوٹ کی تصدیق کرتے شواہد

ہیکر گروپ "عدالۃ علی" نے بدھ 28 ستمبر کو ڈسٹرکٹ 38 پبلک پراسیکیوشن آفس کی پانچویں برانچ کے اسسٹنٹ پراسیکیوٹر علی امرائی کی طرف سے پراسیکیوشن آفس کے سربراہ "محسن پور" کو بھیجے گئے ایک خط کو شیئر کیا تھا۔ اس خط سے تصدیق ہوتی ہے کہ 22 سالہ مہسا کا سر 13 ستمبر کو گرفتاری کے دوران فٹ پاتھ سے ٹکرایا تھا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے مہسا کو کسی قسم کی مار پیٹ یا تشدد کا نشانہ بنانے کی تردید کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کی صحت خراب ہے اور وہ صحت کے سابق مسائل کا شکار تھی۔

مہسا کے اہل خانہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بیٹی کو صحت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

مہسا امینی جن کا تعلق شمال مغربی ایران کے کرد شہر سقز سے ہے کو اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا ۔ گرفتاری کے تین روز بعد وہ 16 ستمبر کو ہسپتال میں انتقال کر گئی تھی۔

ڈاکٹروں نے اہل خانہ کو بیٹی کی حالت کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ اہل خانہ کے کسی بھی فرد نے مہسا کا سی ٹی سکین نہیں دیکھا تھا۔

خاندان کے دو قریبی ذرائع نے بتایا کہ مہسا کی میت کو فرانزک آفس میں ڈھانپ دیا گیا تھا۔ مہسا کے والد بھی اپنی بیٹی کی ٹانگ کے چھوٹے سے حصے کو دیکھ سکے تھے، ٹانگ کےاس حصہ پر انہیں زخم نظر آئے تھے۔

مہسا امینی کی موت سے ایران بھر میں اشتعال پھیل گیا اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ ایرانی مظاہرین ذاتی آزادیوں پر پابندیوں کے خلاف سڑکوں پرنکل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہروں میں خواتین کا کردار نمایاں ہے۔ بہت سی خواتین نے دوران احتجاج سروں سے دوپٹے اتار کر نذر آتش کردئیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں