نورڈ سٹریم پائپ لائنوں سے اخراج کی تحقیقات میں وقت لگے گا: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بحیرہ بالٹک میں نورڈ سٹریم ون اور نورڈ سٹریم ٹو پائپ لائنوں میں گیس کی لیکیج کے بعد سے بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان الزامات کا تبادلہ جاری ہے تاہم اب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے یہ کہ دیا ہے کہ فی الحال یہ قیاس کرنا ممکن نہیں کہ تخریب کاری کے اس عمل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

جمعہ کو ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آسٹن نے ہوائی میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ روس سے جرمنی تک سمندر کے نیچے پھیلی گیس پائپ لائنوں کو متاثر کرنے والی تخریب کاریوں کی تحقیقات میں وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا جب تک ہمارے پاس مزید معلومات نہیں آتیں اور ہم مزید تجزیہ کرنے کے قابل نہیں ہوجاتے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ گیس پائپ لائن سے رساؤ کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے۔

الزام تراشی

بحیرہ بالٹک میں نورڈ سٹریم ون اور نورڈ سٹریم ٹو کی پائپ لائنیں چند دن قبل چار مقامات سے لیک ہوئی ہیں۔ اس کے بعد سے عالمی سطح پر کشیدگی اور الزام تراشی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

یوروپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ اسے روس کی پائپ لائنوں سے گیس کے لیک ہونے کے پیچھے تخریب کاری کی کارروائی کا شبہ ہے۔ یورپی یونین نے کہا توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں جان بوجھ کر خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی تو سخت رد عمل دیا جائے گا۔ دوسری طرف ماسکو نے کہا ہے کہ ان پائپ لائنوں سے گیس کے اخراج کا فائدہ امریکہ کو ہوگا ۔ جن مقامات سے پائپ لائینیں لیک ہوئیں یہ علاقہ امریکی انٹیلی جنس کے زیر کنٹرول علاقوں میں آتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان ایڈریئن واٹسن نے روسی الزام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو کی جانب سے واشنگٹن پر ذمہ داری عائد کرنا مضحکہ خیز ہے۔

بین الاقوامی کشیدگی

واضح ر ہے ان دو پائپ لائنوں کے متاثر ہونے کے بعد سے حالیہ مہینوں میں مغرب اور روس کے درمیان جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ بالخصوص 24 فروری کو شروع ہونے والی روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے روس کے خلاف مغربی پابندیوں اور پھر جواب میں مغرب کو گیس کی سپلائی میں کمی کے بعد سے کشیدگی عروج پر ہے۔

ان گیس پائپ لائینوں کا انتظام کرنے والے کنسورشیم میں اکثر کمپنیوں کا تعلق روس کے ادارے گازپروم سے ہے، اس سب کے باوجود یہ پائپ لائینیں ان دنوں کام نہیں کر رہیں ۔ تاہم پائپ لائنز میں گیس موجود ہے جس سے دنیا بھر کے اعلی حکام اور ماحولیاتی اور موسمیاتی ماہرین کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یاد رہے گیس کا پہلا اخراج جنوبی سویڈن اور پولینڈ کے درمیان بحیرہ بالٹک میں ڈنمارک کے جزیرے بورن ہولم کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ہوا تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جس کے پانی کو دنیا میں سب سے زیادہ قریب سے مانیٹر کئے جانے والے پانیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں