ورلڈ کپ ۔۔۔ چند ہفتے بعد قطر میں دس لاکھ سے زائد شائقین کی بارات اترے گی

قطری ، اماراتی اور سعودی شائقین میں بھی غیر معمولی جوش و خروش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

محض چند ہفتے بعد قطر میں دس لاکھ سے زائد شائقین فٹ بال ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے پہنچیں گے۔ فٹ بال کے ورلڈ کپ کے حوالے سے قطر میں متوقع اس میگا ایونٹ پر ایک سروے کے مطابق امکانی طور پر شائقین کی طرف سے بہت زیادہ خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔

سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فٹ بال کے ہر دس شائقین میں سے سات نے کہا ہے کہ وہ گھروں میں بیٹھ کر ورلڈ کپ دیکھنا چاہیں گے۔ گھروں میں بیٹھ کرورلد کپ دیکھنے کا شغل اکیلے بھی ہو سکتا ہے اور دوستوں کے ساتھ بھی ۔

یہ تعداد سروے میں مجموعی طور پر 69 فیصد بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں آٹھ میں سے ایک شائق کی رائے ہے کہ وہ ورلڈ کپ گھر میں ، ہوٹل میں یا کسی بار میں بیٹھ کر دیکھنا پسند کرے گا۔ جبکہ ایک چوتھائی تعداد نے فٹ بال ورلڈ کپ دیکھنے کے حوالے سے وہ ہے جس نے پہلے سے ورلڈ کپ کا ٹکٹ خرید نے کا منصوبہ بنا چکے ہیں یا ابھی منصوبہ بنا رہے ہیں۔

سعودی عرب میں بھی یہی رجحان سروے کے دوران سامنے آئے ہیں۔ اکثریت گھر میں بیٹھ کر ورلڈ کپ دیکھنے کی خواہشمند ہے۔ واجح رہے سعودی عرب میں فٹ بال شائقین کی تعداد امارات کے مقابلے میں زیادہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم ٹکٹ خرید کر براہ راست ورلڈ کپ دیکھیں گے۔

دوسری جانب متحدہ امارات سے تعلق رکھنےوالے شائقین کا خیلا ہے کہ ورلڈ کپ برازیل جیتے گا، دوسرے نمبر پر وہ ارجنٹینا کو ورلڈ چمپئین بنتا دیکھتے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے لیے سروے میں بالترتیب 19 فیصد اور 15 فیصد کی تعداد سامنے آئی ہے۔

سعودی عرب میں بھی یہی رجحان ہے ۔ 19 فصد برازیل کو ورلڈ چمپئین بنتا دیکھتے ہیں۔ تاہم سعودی شہری اپنی فٹ بال ٹیم کی کاردگی کی اچھی توقع کرتے ہوئے اسے بھی ورلڈ کپ جیتتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

سروے میں یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ ورلڈ کپ قطر میں ہونے جارہا ہے مگر اس کے اثرات اور گہما گمی پورے خطے میں ؐمحسوس ہو ہی ہے۔ شائقین میں سے 63 فیصد کا خیال ہے کہ اس دوران ان کے اخراجات کافی زیادہ ہوں گے۔

قطر پر اس ورلڈ کپ کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سروے میں پوچھے گئے سوال پرشائقین نے کہا ' اس کے اثرات مثبت ہوں گے۔' امارات کے شائقین کا خیال ہے کہ امارات پر اثرات سعودی عرب سے زیادہ ہوں گے۔

اس اہم عالمی ایونٹ کا برینڈز کو بھی بہت فائدہ ہو گا۔ شائقین گھروں میں بیٹھ کر ورلڈ کپ دیکھنے والے ہوں یا سٹیڈیم میں ان سب کی وجہ سے برینڈز کو مثبت ریسپانس ملے گا۔ سروے کے مطابق گھروں میں بیٹھ کر ورلڈ کپ دیکھنے والے شائقین کی تعداد 35 سے 44 سال کے درمیان غالب ہے۔ جو لوگ ان دنوں دبئی میں رہتے ہیں اور شادی شدہ ہیں وہ گھر سے باہر ورلڈ کپ دیکھنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں