ایرانی مظاہرین ایران میں رجیم کی تبدیلی چاہتے ہیں: نسرین ستودہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی مطاہرین ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس امر کا اظہار معروف وکیل نسرین ستودہ نے العربیہ سے انٹرویو میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا 'یہ ایک صاف اور واضح مطالبہ ہے جو ایران میں مظاہرین کر رہے ہیں کہ ایران میں حکومت تبدیل ہونی چاہیے۔ '

نسرین ستودہ نے کہا 'جو چیز بڑے واضح انداز میں بڑھ رہی ہے وہ ایرانی رجیم کی تبدیلی کا ہی مطالبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا 'رجیم کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے اس لیے کر رہے ہیں کہ ہم ماضی کی طرف نہیں جانا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان مظاہرین کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک حقیقی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔'

ایک سوال کے جواب میں ایرانی وکیل نے کہا وہ محسوس کرتی ہیں کہ آنے والے دنوں میں بھی ایرانی سکیورٹی فورسز کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون جاری رہیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مظاہرے بھی جاری رہیں گے۔ اب پیچھے مڑنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا اگر 'عوام کے مطالبات نہ بھی مانے گئے تو زمینی حقائق مستقل طور پر بدل جائیں گے ۔ کیونکہ ہم جبری پردے کو مزید برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ '59 سالہ نسرین ستودہ نے حزب اختلاف کے کارکنوں کی نمائندگی کی ہے۔ انہوں لازمی سکارف کو سر سے اتارا تھا۔

ستودہ کو 2018 میں گرفتار کیا گیا تو ان پر جاسوسی کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ پراپیگنڈہ کرنے کے علاوہ ایرانی سپریم لیڈر کی توہین کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد 38 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جبکہ 148 درے لگانے کا کہا گیا۔

وہ آج کل طبی بنیادوں پر جیل سے باہر ہیں۔ انہیں 2010 میں بھی انہی الزامات کے تحت جیل میں بند کیا گیا تھا۔ لیکن چھ سالہ قید کاٹنے کے بعد رہائی مل گئی تھی۔ یورپی پارلیمنٹ نے ستودہ کو انسانی حقوق کے ایوارڈ سے نوازا۔ وہ اب بھی حجاب کے خلاف نکلے مظاہرین کے ساتھ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں