اسرائیل لبنان سے سمندری حدبندی کے معاہدے کے مسودے پرخوش،گیس کے منافع پرنظریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے اتوار کے روز امریکا کی ثالثی میں لبنان کے ساتھ سمندری سرحد کی حدبندی کے معاہدے کے مسودے کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ یہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں دونوں ممالک بحرمتوسط میں گیس نکالنے کے متنازع منصوبے سے حاصل ہونے والے منافع کو تقسیم کرسکیں گے۔

امریکی سفیرآموس ہوچسٹین نے گذشتہ ہفتے دونوں حریف ممالک کے درمیان تنازعات کے ایک ذریعہ کو ختم کرنے اوراس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کی امید میں ایک نئی تجویز پیش کی تھی جس سے آف شور توانائی کی تلاش کی راہ ہموار ہوگی۔

کئی سال کی سفارت کاری کے بعد اب معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب نظرآتا ہے اورلبنان اس کے 10 صفحات کے مسودے پرغورکررہا ہے۔ البتہ اس کی تفصیل پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے ہفتے کے روز اسے ’’ایک بہت اہم قدم" قرار دیا جبکہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے،جو حزب اللہ کے ایک طاقتوراتحادی ہیں،اسے ’’مثبت‘‘ قراردیاہے۔

اسرائیلی وزیراعظم یائرلاپیڈ نے اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں بتایا کہ مسودے کی منظوری قانونی جائزے کی منتظر ہے۔

انھوں نے ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے اپنے خطاب میں کہا کہ’’جیسا کہ ہم اول روزسے اصرار کررہے ہیں کہ یہ تجویز اسرائیل کے قومی سلامتی کے مفادات کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشی مفادات کا بھی مکمل تحفظ کرتی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ’’ہمیں لبنان میں ایک اضافی گیس فیلڈ کی تعمیرمیں کسی مخالفت کاسامنا نہیں،جس سے ہمیں یقیناً رائلٹی ملے گی۔اس طرح کا میدان لبنان کے ایران پر انحصار کو کمزور کرے گا اورحزب اللہ گروہ کو روکنے سے علاقائی استحکام آئے گا‘‘۔

اسرائیل میں یکم نومبرکو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل یائرلاپیڈ نگراں حکومت کے سربراہ ہیں۔ ان کے حریف اور قدامت پسند سابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دلیل دی ہے کہ لبنان کے ساتھ اس مجوزہ معاہدے سے حزب اللہ کو فائدہ ہوسکتا ہے۔انھوں نے اس ضمن میں لاپیڈ پر پارلیمانی پوچھ تاچھ سے بچنے کا الزام لگایا ہے۔

نیتن یاہو نے اس بات کا اشارہ دیتے ہوئے کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو وہ اس معاہدے کو ختم کر سکتے ہیں، اتوار کے روز ٹویٹ کیا:’’ہم اس کے پابند نہیں ہوں گے‘‘۔

لاپیڈ کے وزیرانصاف جدعون ساعرنے اعتراف کیا کہ اس طرح کے معاملات عام طور پر کنیسٹ (پارلیمان) میں لائے جاتے ہیں۔ تاہم، ساعر نے کان ریڈیو کو بتایا:’’ یہ ایسے غیرمعمولی معاملات ہیں جہاں وزیر انصاف کی رضامندی کی ضرورت ہوتی ہے اور انھیں پارلیمان میں لازمی طور پر پیش کرنے سے استثنا حاصل ہے‘‘۔

ادھرلبنان کی نیشنل نیوزایجنسی (این این اے) نے حزب اللہ کے سینیرعہدہ دارمحمد رعد کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم لبنان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ہم اپنی سمندری سرحدوں کی حدبندی اوراپنی گیس میں سرمایہ کاری کے اپنے حق کا تحفظ کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں