سات سالہ بچے کے بعد اٹھارہ سالہ فلسطینی بھی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک 18 سالہ فلسطینی نوجوان شہید ہو گیا ہے۔ اس گردن میں گولی لگی تھی جس کے بعد وہ جانبر نہ ہو سکتا۔ یہ واقعہ مغربی کنارے میں ہی پیش آیا ہے۔

اٹھارہ سالہ فلسطینی فایز دمدوم کی شہادت کا واقعہ سات سالہ فلسطینی بچے ریان سلیمان کی شہادت کے تیسرے روز پیش آیا ہے۔ سات سالہ بچے ریان سلیمان کی موت کے حوالے سے یورپی یونین مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اس بچے کی موت کی وجوہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کرائے۔ دوسری جانب امریکی دفتر خارجہ نے بھی تحقیقات کرانے کی حمایت کی ہے۔

اٹھارہ سالہ فلسطینی فایز دمدوم کو مغربی کنارے کے علاقے العزریا میں اسرائیلی فوجیوں کے آپریشن کے دوران گولی ماری گئی۔ اسرائیلی فوج کے اس آپریشن کے دوران مقامی فلسطینیوں کی طرف سے پتھراو کیا گیا۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے بتایا جارہا ہے کہ ' اس ٹین ایجر نے مولوٹوف کاک ٹیل پھینکنے کی کوشش کی تھی۔ اسرائیلی بارڈر پولیس کے مطابق ایک کارراوائی کے دوران ہونے والے تصادم میں فورسز پر پتھراو کیا گیا ، بارودی مواد پھینکا گیا ۔ اس کے بعد فلسطینیوں کو منتشر کرنے کے لیے یہ ذرائع اختیار کیے گئے۔ '

واضح رہے اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں ماہ مارچ سے مسلسل جاری رہنے والا آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ یہ آپریشن مغربی کنارے کے شمالی حصے میں بھی جاری ہے۔ اس علاقے میں اسرائیلی قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اب تک درجنوں فلسطنی شہید ہو چکے ہیں۔

جمعرات کے روز سات سالہ بچے ریان سلیمان کے بارے میں اسرائیل کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ ہو سکتا ہے جب اسرائیلی فوجی ایک آپریشن کے دوران فلسطینیوں کی گرفتاریاں کر رہے تھے تو یہ سات سالہ بچہ چھت سے گرگیا ہو۔ خیال رہے مغربی کنارے کا علاقہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے اسرائیلی قبضے میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں