سعودی عرب میں بغیر لائسنس سوشل میڈیا اشتہارات کی پابندی پرعمل شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں یکم اکتوبر سے قابل اعتماد لائسنس کے بغیر سوشل میڈیا پر اشتہارات لگانے کی پابندی پر عمل شروع ہوگیا۔ شہریوں کیلئے اشتہارات لگانے کیلئے لائسنس حاصل کرنا ضروری کردیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی آڈیو ویڈیو وژوال اتھارٹی نے کہا ہے کہ اشتہار دینے والا چاہے سعودی عرب سے باہر ہو اس کے لئے بھی لائسنس کا حصول ضروری ہے۔ عدم تعمیل کی صورت میں مجاز حکام جرمانے عائد کریں گے۔

سعودی عرب سے باہر رہنے والے مشتہر کیلئے بھی لائسنس جاری کیاجائے گا۔ وہ اشتہاری دفاتر، آڈیو وژول میڈیا دفاتر ، مارکیٹنگ دفاتر اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں سے لائسنس کا اجرا کرا سکتا ہے۔

واضح رہے "قابل اعتماد" لائسنس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹوئٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ، فیس بک کو شامل کیا گیا ہے۔

اتھارٹی نے کہا کہ لائسنس کی ملکیت کسی دوسرے شخص کو منتقل نہیں کی جا سکتی۔ اجازت نامہ حاصل کرنے کیلئے 18 سال عمر کی بھی شرط لگائی گئی ہے۔

نامناسب مواد سے تحفظ

آڈیو وژول میڈیا اتھارٹی نے واضح کیا کہ "قابل اعتماد" لائسنس ان افراد کے لیے ہے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس کے ذریعے اشتہار دیتے ہیں اور کمپنیوں اور اداروں کو اسے جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ لائسنس خاندان کے افراد کو نامناسب مواد سے بچانے اور ایسے اشتہارات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا جو فرد اور خاندان کے لیے نامناسب تھے۔ ذرائع نے مزید کہا آڈیو وژول میڈیا اتھارٹی اصل میں سوشل میڈیا پر افراتفری کو منظم کررہی ہے جس کا فائدہ مستقبل قریب میں نظر آ جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں