مھسا امینی کو گرفتار کرنے والے ایرانی ’گشت ارشاد‘ پولیس کے اہلکاروں کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"ایران انٹرنیشنل" چینل کی ویب سائٹ نے آج اتوار کو اطلاع دی ہے کہ ہیکر گروپ Bakdour (3ackd0or) نے ایران کی ’گشت ارشاد‘ پولیس کے ان عناصر کی شناخت جاری کی ہے جنہوں نے تین ہفتے قبل تہران سے بائیس سالہ لڑکی مہسا امینی کو حجاب کے ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی ان پولیس اہلکاروں کی تصاویر میں ایک کی شناخت عنایت اللہ کے نام سے کی گئی ہے جو اس گروپ کا انچارج ہے۔

رپورٹ کے مطابق کیپٹن عنایت اللہ رفیعی کی تاریخ پیدائش 1970ء کی زنجان گورنری کے شہر خدابندہ کی ہے۔ اس کی قیادت میں مہسا امینی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس گروپ میں دوسرے اہلکار کی شناخت ارجنٹ علی خوشنام وند کے نام سے کی گئی ہے۔ اس کی تاریخ پیدائش 1995ء کی اور آبائی شہر لرستان ہے۔

مہسا کی گرفتاری کے آپریشن میں گشت ارشاد پولیس کی دو خواتین بھی شامل تھیں۔ ان کی بھی شناخت جاری کی گئی ہے۔ ان میں ایک کی شناخت برستو صفری ہے جو1986ء میں کرمانشا میں پیدا ہوئیں اور پولیس کے شعبے میں ملازمت شروع کی۔

مہسا کی گرفتاری میں شامل ایک خاتون اہلکار کی شناخت فاطمہ قربان حسینی کے نام سے کی گئی ہے جس کی پیدائش1995ء کی ہے اور اس کا آبائی شہر تہران ہے۔

عناصر دورية الأخلاق الإيرانية - نقلا عن إيران انترناشونال

اس سے پہلے ہیکر گروپ ’عدالت علی‘ نے پبلک پراسیکیوشن 38 کی پانچویں برانچ کے اسسٹنٹ پراسیکیوٹر علی امیری کا اس پراسیکیوشن آفس کے سربراہ ڈاکٹر محسن پور کو ایک خط شائع کیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ عینی شاہدین کے مطابق مہسا امینی کا سر اسے گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران فٹ پاتھ سے ٹکرا گیا۔

اس خط کے مطابق پولیس انسپکٹرز نے ٹیکسی ڈرائیوروں، طالقانی پارک کے رینجرز اور دکان کے مالکان سے پوچھ گچھ کی اور کہا کہ مہسا امینی نے گاڑی میں لے جانے کے دوران مزاحمت کی اور مزاحمت کے نتیجے میں اس کا سر فٹ پاتھ پر مارا۔ یہ کہ یہ دھچکا مہسا کی اخلاقی پولیس کی حراست میں اس کی موت کا باعث بنا۔

مہسا کی وفات کے بعد حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری ہے۔ اس پرتشدد احتجاج میں اب تک تقریبا 83 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ احتجاج 16 ستمبر کومہسا امینی کی گرفتاری کے ساتھ ہی شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں