ایرانی مظاہرین کی حمایت میں بیرون ملک احتجاج، ہلاکتوں کی تعداد 133 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں ایک لڑکی مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد حکومت مخالف شروع ہونے والا احتجاج اب دوسرے ملکوں تک پھیل گیا ہے۔ کل اتوار کو ایران کے پڑوسی ملکوں عراق اور ترکیہ میں بھی احتجاجی جلوس نکالے گئے۔

اتوار کے روز ترکیہ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں مظاہرین نے ایرانی پاسپورٹ پھاڑ دیے جب کہ احتجاجی خواتین نے اپنے بال کٹوا مہسا امینی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

ایران میں حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سینکڑوں ایرانی کمیونٹی اور فرانسیسی کارکن کل دارالحکومت پیرس کی سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے بینرز اور تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن پر مہسا امینی کے قتل کی مذمت کی گئی تھی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہیومن رائٹس واچ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ایران میں ہونے والے مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 133 ہو گئی ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق اخلاقی پولیس ’گشت ارشاد‘ کی جانب سے نوجوان خاتون مہسا امینی کی گرفتاری کے بعد اس کے قتل کے خلاف احتجاج میں دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل اتوار کو تنظیم نے 92 اموات کی اطلاع دی تھی۔ اس سے قبل پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے نتیجے میں اموات کی تعداد 83 بتائی گئی تھی۔

تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے کہا کہ یہ بین الاقوامی برادری کا فرض ہے کہ وہ تحقیقات کرے اور ایران کو دوسرے جرائم کے ارتکاب سے روکے۔

ایک دوسری پیش رفت میں ایرانی تسنیم خبر رساں ایجنسی نے اتوار کو اطلاع دی کہ ایران میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں عوامی تحریک کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔

ایجنسی نے بتایا کہ ان میں سے ایک قم میں مارا گیا، جبکہ دوسرا قشم میں اس وقت ہلاک ہوا جب وہ مظاہرین پرحملے میں زخمی ہوگیا تھا۔

دوسری جانب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے اتوار کو ایک تقریر میں کہا ہے ان کے ملک کے خلاف ہونے والی سازش کو کچل دیا گیا ہے۔ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد ملک کو ترقی سے روکنے کے لیے ایک نئی سازش کرنے والوں کو کچلنا ہے۔ وہ ملک کو تنہا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن وہ شکست کھا گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں