سالانہ ایک ارب ریال خرچ، سعودیہ قہوہ پینے والے ٹاپ ٹین ملکوں میں موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی ہر سال ایک ارب ریال کا قہوہ پی جاتے ہیں اور اسی بنا سعودیہ قہوہ پینے والے ٹاپ ٹین ملکوں میں موجود ہے۔ سعودی وزارت تجارت کےمطابق اس سال قہوہ خانوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور قہوہ خانوں کی تعداد 35 ہزار 494 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی شہری دن بھر مختلف اقسام کے قہوہ جات نوش کرنے کی دوڑ میں ملک کی معیشت میں بھی بڑا حصہ ڈال رہے ہیں۔

اسی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی منڈیوں میں سالانہ درآمد کئے جانے والے قہوہ کا تخمینہ 70 سے 90 ہزار ٹن ہے۔ اس کے علاوہ 400 ہزار درخت سعودیہ کےاندر موجود ہیں جو قہوہ کی پیداوار دے رہے۔ سعودیہ کے اندر اعلی قسم کے قہوں کی پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ سعودیہ کے تین خطے جازان، عسیر ور الباحہ قہوں کی پیداوار کے اعتبار سے معروف ہیں۔ جازان میں مختلف قہوں کے 3 لاکھ 40 ہزار درخت ہیں جو سالانہ 2040 ٹن اور 340 خالص قہوہ اور کافی کی پیداوار فراہم کر رہے۔ عسیر میں 40 ہزار درخت 240 ٹن قہوہ سالانہ دے رہے۔ الباحہ میں 18 ہزار درختوں سے سالانہ 108 ٹن قہوہ مل رہا۔

ثقافتی مصنوعات

خیال رہے قہوہ سعودی عرب کی ایک مخصوص ثقافتی پروڈکٹ ہے جو قدیم زمانے سے سعودی شناخت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ سعودی معاشرے میں اس کی کاشت، تیاری اور پیش کش کا اپنا انداز ہے۔ قہوہ سعودی عرب میں سخاوت اور مہمان نوازی کی ایک علامت بن گیا ہے۔

سعودی عرب میں ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت نے قہوے کی کاشت اور اس کی پیداوار میں اضافے کیلئے متعدد پروگرام اوراقدامات پیش کیے ہیں۔ ان اقدامات میں زرعی چھتوں کی بحالی، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی نئی تکنیکوں کا استعمال شامل ہے۔ جازان میں زرعی تحقیقی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے ۔ یہ زرعی مرکز اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے اور اسی مرکز کی منظوری کے بعد جازان میں قہوہ کی کاشت کو خاطر خواہ کامیابی ملی ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں