صدربائیڈن کم ازکم ایرانیوں کو مارنے والی گولیوں فنڈنگ نہ کریں: رضا پہلوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی حکومت کو اربوں ڈالر فراہم کرنے کے امریکی ارادوں کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے سابق بادشاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے امریکی صدر سے کہا ہے کہ "جناب بائیڈن! آپ نے ابھی تک ہمارے لوگوں کی مدد نہیں کی، کم از کم آپ ان گولیوں کی فنڈنگ نہ کریں جو ان کے بچوں کے دلوں میں گزرتی ہیں۔"

ایران کے مرحوم شاہ کے بیٹے نے امریکا اور مغرب سے مطالبہ کیا کہ وہ ہڑتال کرنے والے مزدوروں کے خاندانوں کی مدد کے لیے ایک فنڈ قائم کریں۔ جس کے ساتھ ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور گروپوں اور یونینوں کی طرف سے ہڑتالوں میں شامل ہونے کی کالیں کی جائیں۔

اتوار کو پہلوی نے ٹویٹ کیا کہ "ہم امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ ایرانی عوام کی اخلاقی حمایت سے آگے بڑھیں۔ چونکہ ایرانی کارکن احتجاج اور حکومت کو روکنے کے لیے ہڑتال کر رہے ہیں۔ مغرب ان مزدوروں کے خاندانوں کی مدد کر سکتا ہے۔

پہلوی نے تہران کی شریف یونیورسٹی پر سکیورٹی فورسز کے حملے کی ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی۔ انہوں نے بائیڈن سے ایک ٹویٹ میں کہا کہ "جناب صدر بائیڈن! آپ نے ابھی تک ہمارے لوگوں کی مدد نہیں کی، کم از کم ان گولیوں کی مالی امداد نہ کریں جو ہمارے بچوں کے سینوں سے گزرتی ہیں۔!"

انہوں نے مزید کہا کہ "ایک ایسے وقت میں جب ایران شریف یونیورسٹی کے طلباء کو گولیاں مار رہا ہے، رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریک اس مجرم حکومت کو دوبارہ اربوں ڈالر بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے"۔

دوسری جانب ایران کے اندر اور باہر 400 سے زائد ادیبوں، شاعروں، یونیو رسٹی لیکچررز، صحافیوں اور مترجمین نے اتوار کو ایک بیان میں ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے اساتذہ، کارکنوں، وکلاء، ثقافتی اور فنکاروں جیسے رہ نماؤں اور طبقات سے سول نافرمانی، ہڑتال اور بھرپور احتجاج کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں 16 ستمبرکو ایک بائیس سالہ لڑکی کی ایرانی پولیس کے ہاتھوں مبینہ تشدد سے ہلاکت کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پرتشدد مظاہروں میں اب تک ڈیڑھ سو کے قریب لوگ ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ایرانی حکومت نے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف سخت پالیسی اختیار کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں