چار برس قبل سعودی بچی کو قتل کرنیوالی ملازمہ کو سزائے موت دیدی گئی

والدہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اللہ نے مجھے صبر کا بدلہ قصاص کی صورت دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سعودی عرب میں چار برس قبل بچی نوال قرنی کو اس کی ملازمہ نے بھیانک طریقے سے قتل کردیا تھا۔ اس واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دو اکتوبر 2022 کو نوال قرنی کی قاتل ملازمہ فاطمة محمد اصفا کو بطور قصاص سزائے موت دیدی گئی۔

بچی نوال قرنی کی والدہ نے کہا میں نے آج 2 اکتوبر کو بیٹی کی قاتلہ کو سزا کے دن کے طور پر اپنی ڈائری میں درج کرلیا ہے۔ نوال کی والدہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بات چیت میں کہا 2 اکتوبر صبح نو بجے میری بیٹی کی قاتل ملازمہ سے قصاص لے لیا گیا ہے۔

قصاص میں قتل کرنے سے قبل تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ نوکرانی نے جان بوجھ کر، جارحانہ انداز میں، قتل کے ارادے سے نوال کو چھری کے وار کرکے قتل کیا تھا۔ نوال کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ سو رہی تھی ۔ ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی نوکرانی فاطمہ محمد اصفا نے اس کے جسم کے مختلف حصوں پر چھریوں کے وار کئے تھے۔ یہ تمام باتیں ثابت ہونے کے بعد عدالت نے نوکرانی کو قتل کی سزا سنائی تھی۔

نوال کی والدہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو مزید بتایا کہ اللہ نے مجھے صبر کا بدلہ دے دیا۔ ایک بڑی تھکاوٹ کے بعد یہ راحت نصیب ہوئی ہے۔ میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ مجھے نوال کا بہترین نعم البدل عطا فرمایں۔ مجھے، میری بیٹی نوال اور دوسرے بچوں کو جنت میں اکٹھا کردیں۔

مزید تفصیلات بتاتے ہوئے نوال کی والدہ نے کہا کہ میں اس تمام عرصہ میں کبھی سکون میں نہیں آئی میں اس نوکرانی سے بدلے کی شدید منتظر تھی جس نے بڑے بھیانک انداز میں میری بیٹی نوال کو قتل کیا تھا۔ اس دوران میں مسلسل وزارت انصاف کے حکام اور ججوں سے ملتی رہی ۔ ان سے قصاص کا مطالبہ کرتی رہی اور اپنی بیٹی کی قاتلہ کوجلد سزا ملنے کی بہت دعا بھی کرتی رہی ۔

میری بیٹی نوال کے قتل کو 4 سال اور 3 ماہ کا عرصہ گزر گیا ۔ اس ساری مدت کے دوران میں کیس کی پیروی کرتی رہی اور 2 اکتوبر رات 9 بج کر 10 منٹ پر میرے سامنے تلوارکے ذریعہ نوکرانی سے قصاص لیا گیا، وزارت داخلہ کے حکم سے اسے بھی ایسے ہی مارا گیا جیسے اس نے میری بیٹی کو قتل کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا میں نے اپنی بیٹی کی موت کے بعد مشکل حالات میں زندگی گزاری ہے۔ نوال کے قتل کے بعد اپنی زندگی اپنے بیٹے علی کی دیکھ بھال کے لیے وقف کر دی۔ اس سانحہ کے وقت وہ مڈل سکول میں تھا اب وہ سیکنڈری سکول میں پڑھتا ہے۔ اس عرصہ میں اللہ نے مجھے ایک بیٹے ریان سے بھی نوازا ہے جس سے مجھے ایک اور طاقت بھی ملی ہے۔

صدمے کی حالت

نوال کی والدہ نوف سعد الشہرانی اب تک صدمے کی حالت میں ہیں اور اکثر اوقات روتی رہتی ہیں۔ اپنی 11 سالہ بیٹی کی شکل ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتی۔ وہ نوکرانی کے ہاتھوں قتل اپنی اس دبلی پتلی بیٹی کو یاد کرتی رہتی ہیں۔

کنگ سلمان ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں بطور نرس کام کرنے والی نوف نے اس بھیانک قتل کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا میں بدترین خواب دیکھتی ہوں جیسا کہ کوئی بھی ماں اس وقت دیکھ سکتی ہے جب وہ گھر آئے اور اپنے دونوں بچوں کو خون میں لت پت دیکھے۔ انہوں نے کہا نوکرانی فاطمہ اڑھائی سال سے میرے ساتھ کام کررہی تھی میں نے اس میں ایسا کوئی رویہ یا نفسیاتی بیماری محسوس نہیں کی تھی کہ اس سے احتیاط کی جائے۔

نوف نے نوکرانی کے متعلق بھی باتیں کیں اور بتایا کہ قاتل ملازمہ فاطمہ میرے چھوٹے بچے سے بہت پیار کرتی تھی۔ اس نے اپنی تنخواہ وصول کرنے کے بعد کہا تھا کہ میرے ملک ایتھوپیا کے حالات بہت خراب ہیں لہذا وہ اسے ڈیپورٹ نہ کریں۔ اس نے اپنے سفر کی تاریخ سے ایک دن قبل مجھے کہا تھا کہ ہمارے ملک کے حالات اچھے نہیں لہذا وہ یہ سفر نہیں کرنا چاہتی۔

نوف نےمزید کہا کہ جرم سے ایک روز قبل میں نوکرانی فاطمہ کے ساتھ باہر گئی، میں نے اس کی چیزیں بھی اپنے اکاؤنٹ سے ہی خریدیں اور اس کی تنخواہ سے کچھ نہیں کاٹا تھا۔ میں نے اس دن بھی اس کے رویہ میں کوئی عجیب بات نہیں دیکھی تھی۔

بیٹی سے آخری ملاقات اور خون کا منظر

نوف نے بتایا میری بیٹی نوال الیکٹرانک آلات اور پلے سٹیشن کے ساتھ کھیلتی تھی۔ اس سے میری آخری ملاقات ساڑھے نو بجے کام پر جانے سے پہلے ہوئی تھی۔ میں نے اسے جاگتے ہوئے دیکھا تو سونے کیلئے کہا۔ پھر میں اسے چھوڑ کر کام پر چلی گئی۔ دس بجے کے بعد میرے بیٹے علی کا فون آگیا کہ اسے اور اس کی بہن کو نوکرانی نے چاقو سے مارا ہے۔

والدہ نوف نے بات جاری رکھی اور کہا میں پاگلوں کی طرح دفتر سے باہر گئی اور ایک ساتھی سے کہا کہ وہ مجھے گھر لے جائے۔ میں جلدی گھر پہنچنے کیلئے راستے میں ہی دوڑ لگانا چاہ رہی تھی۔ میں نے فون پر ہلال احمر، سول ڈیفنس، سکیورٹی حکام کو مطلع کردیا۔ جیسے ہی میں گھر پہنچی تو معلوم ہوا کہ میں گھر کی چابیاں تو دفتر میں بھول آئی ہوں۔ میں نے فون پر علی کو کہا تھا کہ وہ میرے پہنچنے تک زخم کو دبا کر رکھے تاکہ زیادہ خون نہ بہے ۔ علی اپنے پیچھے بہن نوال کو خون میں لت پت چھوڑ کر دروازہ کھولنے کیلئے اٹھا۔ کوشش کرنے کے بعد وہ دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا۔ دروازہ کھلتے ہی میں نے اپنی زندگی کا خوفناک ترین منظر دیکھا ۔ نوال ترچھی بے سدھ پڑی تھی۔ میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ جتنا برا منظر وہ تھا جنت میں اتنی ہی اچھی حالت میں مجھے نوال کو دیکھنا نصیب فرمادے۔

اپنی بات ختم کرتے ہوئے نوال کی والدہ نوف نے کہا اے اللہ مجھے نوال کی جدائی کے لئے صبر عطا فرما۔ نوال اور علی میرے ساتھ پلے بڑھے۔ ہم دوست تھے۔ ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے تھے۔ ان دنوں میں ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔

وزارت داخلہ کا بیان

سعودی وزارت داخلہ نے بھی ایتھوپیا کی ملازمہ کی سزائے موت پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ننھی بچی نوال کو نیند میں اس کے جسم کے مختلف حصوں میں متعدد وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔

اللہ کے فضل سے سیکورٹی حکام نے مجرمہ کو گرفتار کرلیا اور تفتیش کے بعد اس پر فرد جرم عائد کی گئی اور مقدمہ فوجداری عدالت بھیج دیا گیا۔ عدالت نے اسے سزا سنا دی۔ اپیل کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی سزا کو برقرار رکھا اور سزا پر عمل کا حکم دیا گیا۔ اسی حکم پر عمل کرتے ہوئے اتوار 2 اکتوبر 2022 کو ریاض میں مجرمہ فاطمہ کو سزائے موت دے دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں