ایران میں خواتین نے اسکول عہدیدار کوبھگا دیا،خامنہ کے پوسٹر پھاڑ ڈالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں ایک لڑکی کی پولیس کے مبینہ تشدد میں ہلاکت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے۔

دو ہفتے سے زاید عرصے سے جاری احتجاج کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔

بائیس سالہ کرد لڑکی مہسا امینی کی کی موت کے بعد گذشتہ ایام کے دوران ملک کی مختلف جامعات میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یونیورسٹیوں میں پرتشدد احتجاج کے بعد ملک کے مغربی علاقوں میں کئی اسکولوں میں بھی حکومت مخالف احتجاج کی خبریں آ رہی ہیں۔

مغربی تہران کے کرج شہر میں ایک اسکول کی طالبات نےکمرہ جماعت کی ایک دیوار پرلگے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے پوسٹر پھاڑ ڈالے۔ جب کہ کچھ طالبات نے خامنہ کی تصاویر پھاڑ ڈالیں اور انہیں آگ لگا دی۔

ادھر کرج میں ایک اور اسکول میں لڑکیوں نے وزارت تعلیم کے ایک عہدیدار کو اسکول سے بھگا دیا۔ احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز شائع کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق اسکول کی طالبات میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

ایران میں سماجی کارکنوں کی طرف سے نشر کردہ ایک ویڈیو میں اسکول کی طلبات کو’ملائیت مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے۔ ملائیت سے ان کی مراد ملک پرکئی عشروں سے مسلط مذہبی حکومت ہے۔

اس کے علاوہ دیگر کلپس میں اسکول کی طالبات کو شہر کی گلیوں میں چلتے ہوئے دکھایا گیا، جو یہ چیختے ہوئے: "توپ، ٹینک اور پٹاخے لے کر ملاؤں کو جانے دو کے نعرے لگا رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں