ایران میں مظاہرے حیران کن ہیں! سی آئی اے ڈائریکٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں 16 ستمبر کو حجاب کی پابندی نہ کرنے پر گرفتار خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد سے شروع مظاہرے تیسرے ہفتے میں بھی جاری ہیں۔ ایران میں اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج غیر متوقع تھا۔ اب امریکی انٹیلی جنس نے بھی کہ دیا ہے کہ ان مظاہروں کا تسلسل اور ان کے پھیلاؤ کا دورانیہ واقعی حیران کن ہے۔

سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر برنز نے نے ایران میں جاری مظاہروں کا پھیلاؤ ایک گرجدار پیغام ہے۔ درجنوں شہروں اور صوبوں میں ہونے والے اس احتجاج نے مختلف طبقات کو متاثر کیا ہے۔

’’ایرانی نوجوان تنگ آ چکے‘‘

سی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں سی آئی اے ڈائریکٹر برنز نے کہا ایرانی نوجوانوں کو ایرانی حکام کے سیاسی جبر کا سامنا ہے۔ اب ایرانی نوجوان خصوصی طورپر خواتین تنگ آچکے ہیں۔ معاشی بحران اور مشکل حالات زندگی سے ہوں، ملک میں بدعنوانی، سماجی پابندیاں اور سیاسی جبر ایسے لوازمات ہیں جنہوں نے ایرانی نوجوان کو بڑا خطرہ مول لینے کے لیے تیار کر دیا۔

خیال رہے امریکی صدر بائیڈن نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکہ اس ہفتے پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کے مرتکب افراد پر اضافی اخراجات عائد کرے گا۔ بائیڈن نے ایران میں بچوں اور خواتین سمیت مظاہرین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی رپورٹس پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

دوسری طرف ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے مظاہرین اور فسادیوں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہونے کا الزام لگا دیا ہے۔

مہسا کی موت ایک چنگاری

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں زیر حراست مہسا امینی کی موت ایک چنگاری ثابت ہوئی ہے جس نے آگ کو بھڑکا دیا ہے۔ مہسا امینی کی موت کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے در اصل ایرانی نوجوانوں میں پہلے سے موجود غصے کی عکاسی کر رہے ہیں۔

مہسا کی موت نے ایران میں موجود کئی مسائل پر غصے کو بڑھا دیا ہے۔ ان مسائل میں شخصی آزادی پر پابندیاں اور خواتین کے لباس کے حوالے سے سخت قوانین شامل ہیں۔ اسی طرح تنگ معاش زندگی، اقتصادی بحران، حکومتی سخت قوانین، بدعنوانی جیسے مسائل نے ایرانیوں کو مشتعل کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں