تہران میں برطانوی سفیر کی وزارت خارجہ طلبی

برطانیہ کے کسی بھی غیر معمولی اقدام پر ہر ممکنہ آپشن استعمال کی جائے گی۔ ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی سفیر کو طلب کیا ہے۔ برطانوی سفیر کی یہ طلبی اس مداخلتی بیان کے بعد ہوئی ہے جو برطانیہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے ایران میں جاری صورت حال کے بارے میں دیا گیا ہے۔

ایران کی طرف سے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے' برطانیہ کی طرف سے ان یکطرفہ بیانات کا مطلب یہ ہے کہ ایران میں موجودہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں برطانیہ کا بھی کردار ہے۔ '

اس امر کا اظہار ایرانی وزارت خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل برائے مغربی یورپ نے یہ کہتے ہوئے کیا کہ 'برطانوی ریمارکس بے بنیاد ہونے کے علاوہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اشتعال انگیز تشریح پر مبنی ہیں۔ '

واضح رہے برطانوی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا تھا کہ اس نے لندن میں ایرانی ناظم الامور کو ایران میں بائیس سالہ کرد مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاون پر طلب کیا تھا۔ اس کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی سفیر کو منگل کے روز دفتر خارجہ طلب کر لیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے کسی بھی غیرمعمولی اقدام کا ہر ممکن طریقے سے جواب دیا جائے گا۔ خیال رہے مہسا امینی کو 13 ستمبر کو ایرانی پولیس نے گرفتار کیا تھا ۔ وہ پولیس حراست میں ہی ہلاک ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں