ایرانی خواتین سے یکجہتی میں یورپی خاتون رکن پارلیمان نے بھی بال کاٹ لئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تہران میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران میں احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ غم و غصہ کی لہر اب پوری دنیا میں پہنچ گئی ہے۔

اس غصے کے اظہار کا سب سے نمایاں طریقہ خواتین کا بال کاٹنا بن گیا ہے۔ "عورت زندگی اور آزادی ہے‘‘ کے مقبول نعرے کے تحت ایران بھر میں خواتین نے بال کٹوانا شروع کر دئیے۔

ان ایرانی خواتین سے اظہار یکجہتی میں دیگر ملکوں کی خواتین نے بھی اپنے بال کٹوانے کی ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کردی ہیں۔

مشہورفرانسسی اداکارہ نے ایرانی خواتین سے اظہار یکجہتی میں اپنے بال کٹوا دئیے تھے تو اب یورپی پارلیمنٹ کے سویڈش رکن عبیر سھلانی بھی بال کٹوانے والی خواتین میں شامل ہوگئی ہیں۔

عراقی نژاد عبیر سھلانی نے فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ کے پوڈیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ایران آزاد نہیں ہو جاتا ہمارا غصہ ظالموں سے زیادہ ہو گا۔

اس کے بعد انہوں نے قینچی پکڑی اور اپنے بال کاٹتے ہوئے مظاہرے کا مشہور نعرہ "عورت زندگی اور آزادی ہے‘‘ بھی لگایا۔ پھر وہ سٹیج سے چلی گئیں۔

یاد رہے حجاب نہ کرنے پر شمال مغربی ایران کے کرد شہر سقز میں مہسا امینی کو گرفتار کیا گیا تھا اور 16 ستمبر کو پولیس حراست میں ہی اس کی موت ہوگئی تھی۔

مہسا کی موت کے بعد سے ملک میں کئی مسائل پر غصے کی آگ بھڑک اٹھی ہے اور احتجاج جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں