ایران میں قید کاٹنے والاپچاسی سالہ ایرانی امریکن باقرنمازی علاج کے لیےبیرون ملک روانہ

ابوظہبی میں علاج ہوگا۔ 2016 میں دس سال سزا سنائی گئی ، 2020 میں مقدمہ ختم ہوگیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے امریکی شہریت کے 85 سالہ ایرانی شہری باقر نمازی کو جیل سے طبی بنیادوں پر رہائی دے دی ہے۔ وہ ایران میں گذشتہ کئی برسوں سے ایران کی جاسوسی کرنے اور دشمن ملک کے ساتھ تعاون کرنے کے جرم میں سزا کاٹ رہے تھے۔

طبی بنیادوں پر رہائی ملنے کے بعد باقر نمازی اومان کے دارالحکومت مسقط پہنچ چکے ہیں۔ جہاں مختصر سے قیام کے بعد ابو ظہبی پہنچ جائیں گے تاکہ اپنا علاج کر سکیں۔

ایران سے مسقط روانگی کے بعد نمازی خاندان کے وکیل جیرڈ جینسر نے تصدیق کی کہ باقر نمازی چھ سال پانچ ماہ کی بندش کے بعد مسقط کے راستے پر ہیں۔

واضح رہے ان کی مسقط روانگی کی اطلاع سب سے پہلے ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے دی تھی کہ انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو بھی شئیر کی جس میں انہیں نجی طیارے میں ایک ایسے شخص کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے جس نے اومانی لباس پہن رکھا ہے ۔

تاہم یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ رہائی پانے والی باقر نمازی کہاں روانہ ہو رہے ہیں۔ البتہ ویڈیوں میں انہیں جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ جہاز پر اومانی شاہی ائیر فورس کا ہلکے نیلے رنگ کا انسگنیا بھی دیکھا جا سکتا تھا۔

باقر نمازی ماضی میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف میں کام کر چکے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ ساتھ امریکی شہریت بھی رکھتے ہیں اور ان چار امریکی شہریت کے حامل افراد میں سے ایک تھے جنہیں جیل جانا پڑا ۔ ان چار میں ان کا 51 سالہ بیٹا سیامک بھی شامل ہے ۔سیامک کو بھی جاسوسی اور دشمن ملک کے ساتھ تعاون کے جرم میں جیل بھیجا گیا تھا ۔

باقر نمازی کو 2016 میں ایرانی عدالت نے اسی جرم میں سزا سنا کر دس سال کے لیے جیل بھیجا تھا۔ تاہم ایرانی حکومت نے انہیں 2018 میں بھی ایک مرتبہ طبی بنیادوں پر ہی رہائی دی تھی اور بعد ازاں 2020 میں ان کے خلاف مقدمہ بند کر دیا گیا تھا۔

تاہم انہیں ملک سے باہر جانے سے سختی سے روک دیا گیا تھا۔ لیکن اب ہفتے کے روز باہر جانے کی بھی اجازت دے دی گئی۔ جب اقوام متحدہ نے بھی انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیے جانے پر اصرار کیا۔

ان کا 51 سالہ بیٹا سیامک بھی انہی الزامات کی بنیاد پرایرانی جیل میں سزا کاٹ رہا ہے۔ اسے بھی 2016 میں ایک ہفتے کے لیے رہائی دی گئی تھی۔

دوسری جانب امریکی حکومت نمازی اور ان کے بیٹے سیماک کے خلاف الزامات کو بنیاد قرار دیتی ہے۔

خاندان کے وکیل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے باقر نمازی کے بیٹے بابک نمازی نے اپنے والد کی رہائی پراظہار تشکر کیا ہے اور اپنے بھائی کی رہائی نہ ہو سکنے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

بابک کے مطابق یہ ایک کڑوی مٹھائی ملنے والی صورت ہے کہ اہم ایک جانب اپنے والد کی ناقابل یقین رہائی پر خوش ہیں تو دوسری جانب بھائی اب بھی جیل میں ہے۔
بابک نے دیگر امریکی شہریت کے حامل شہریوں عماد شرقی اور مراد تہباز کی رہائی بھی ضروری قرار دی کہ اسی صورت ہمارے ڈراونے خواب کا خاتمہ ہو سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں