سعودی سینما کے اکثر شائقین مزاحیہ مواد کے دلدادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کامیڈی فلموں نے سعودی عرب میں سنیما کے ناظرین کی توجہ کا سب سے بڑا حصہ حاصل کرلیا۔ باکس آفس پر ٹاپ ٹین میں فلموں میں سے 60 فیصد کامیڈی فلمیں ہیں۔ باکس آفس پر ہٹ ہونے والی ان فلموں مں چار مصری فلموں نے جگہ بنا لی۔ باکس آفس پر ہٹ ہونے والی امریکی فلموں میں س بھی دو میں کامیڈی مواد پیش کیا گیا۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ کمائی کرنے والی 10 فلموں میں 4 عرب فلمیں ہیں، اور یہ چاروں کامیڈی فلمیں ہیں۔ جن میں ’’ بحبک‘‘ بھی شامل تھی جس نے سعودی عرب میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی عرب فلم کا ریکارڈ قائم کیا۔

سعودی فلم بینوں کے کامیڈی فلموں پر 265 ملین ریال خرچ

چار مصری فلموں میں’’بحبک‘‘ اور ’’ وقفۃ رجالۃ‘‘ اور ’’ من اجل زیکو‘‘ اور ’’عمھم‘‘ شامل ہیں۔ یہ فلمیں ٹاپ ٹین میں تیسرے سے چھٹے نمبر پر آئیں۔ امریکی کرائم کامیڈی فلم ’’ Cruella ‘‘ نویں نمبر پر تھی اور ’’Minions: The Rise of Gru‘‘ بھی ٹاپ ٹین کی چھ کامیڈی فلموں میں شامل تھی۔

"سولی ووڈ" کے حاصل کردہ اعداد و شمار کا تجزیہ کریں تو سعودی فلم بینوں نے کامیڈی فلموں پر 265 ملین 248 ہزار اور 559 سعودی ریال خرچ کرڈالے ہیں۔ یہ باکس آفس پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دس فلموں پر ہونے والے کل اخراجات کا 54.2 فیصد ہے۔

مصری رومانوی کامیڈی ’’بحبک‘‘ نے 58 ملین 758 ہزار اور 347 سعودی ریال کی آمدنی بنائی، ’د وقفۃ رجالۃ‘‘ نے 58 ملین 631 ہزار 656 سعودی ریال کی آمدنی حاصل کی، " من اجل زیکو " 41 ملین 554 ہزار 820 سعودی ریال اور ’’ عمھم‘‘ نے 39 ملین 628 ہزار 962 سعودی ریال کی آمدنی حاصل کی۔

گزشتہ سال 2021 میں، مصری فلم "وقفۃ رجالۃ" سعودی عرب میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی فلم قرار پائی۔ اس فلم نے سعودی عرب میں 15 ملین ڈالر کمائے۔ یہ اس کی مصر میں ہونے والی آمدن سے 10 گنا زیادہ تھے۔ 2022 کی عید الفطر پر بھی مصری سٹار ’’ تامر حسنی‘‘ کی فلم ’’ مش انا‘‘ نے زبردست کامیابی حاصل کی، اس کے بعد کامیابی میں مصری سٹار ’’ احمد حلمی‘‘ کی کامیڈی فلم ’’واحد تانی‘‘ کا نمبر آتا ہے۔

سعودی فلم بینوں کا رجحان ویسے تو ایک خطے سے دوسرے خطے میں مختلف ہوسکتا ہے۔ بالخصوص دور دراز کے علاقوں میں جہاں اب بھی ہالی ووڈ کے مقابلے لوگ مصری فلموں کو ترجیح دیتے ہیں تاہم اس کے باوجود سعودی فلم بینوں کے رجحان کا تعین مجموعی طور پر سعودی سینما میں جانے والوں کی کثرت کرتی ہے۔

سعودی سنیما کے ناظرین کا عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ کہانی کی گہرائی یا اس کے ڈرامائی پلاٹ سے قطع نظر کرکے خوشی کی تلاش اور عمومی دلچسپی پر مبنی مواد کو دیکھنے کے خواہاں ہیں۔

اس رجحان کو ’’ خوشیاں دینے والی فلمیں ‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور حالیہ سالوں میں دنیا بھر میں یہ رجحان سب سے زیادہ مقبول ہوا ہے ۔ یہ وہ فلمیں ہوتی ہیں جو ناظرین کو کہانی کی گہرائی میں لے جانے کے بجائے خوشی کا احساس دلاتی ہیں۔

رومانٹک کامیڈی

رومانی مزاحیہ فلم ’’ بحبک‘‘ کی سعودی سینما میں ریکارڈ کامیابی کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ خوشی والی فلموں کے زیادہ تر شائقین بھی اگلے مرحلہ میں پھر معیاری رومانوی کامیڈی کو ترجیح دیتے ہیں۔

جرمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ’’ The Max Planck Institute for Empirical Aesthetics ‘‘ کی ایک تحقیق سے بھی اس رجحان کی تائید ہوتی ہے۔ اس سروے میں 450 شرکا سے فلموں سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔ اکثر شرکا کے مطابق ان کو خوشی کا احساس دلانے والی فلمیں رومانوی مزاحیہ فلمیں ہیں ۔

عرب فلموں کی بالادستی

اعداد و شمار سے واضح ہو رہا ہے کہ رسد میں کمی کے باوجود سعودی ناظرین اب بھی عرب فلموں کے پیاسے ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2022 کے پہلے نو ماہ میں 130 ہالی ووڈ فلمیں پیش کی گئیں جن میں سے 6 فلموں نے ٹاپ ٹین میں جگہ پائی ۔ اس کے مقابلے میں صرف 18 مصری عرب فلمیں پیش کی گئیں جن میں سے 4 فلموں نے ٹاپ ٹین میں جگہ حاصل کرلی اور یہ چاروں فلمیں بھی کامیڈی تھیں۔ تاریخی اور ایکشن فلمیں مصری فلم بینوں کے ہاں تو مقبولیت پاتی ہیں تاہم سعودی فلم دیکھنے والے زیادہ تر کامیڈی کو پسند کر رہے ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں