الصدر نے صلاح الدین کے علاوہ تمام گورنریوں میں اپنے مسلح دھڑے منجمد کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں صدری تحریک کے رہ نما مقتدیٰ الصدر نے جمعرات کے روز صلاح الدین گورنری کے علاوہ تمام صوبوں میں اپنے تمام مسلح دھڑوں بشمول سرایا السلام کو منجمد کرنے کا اعلان کیا۔

الصدر کے وزیر صالح محمد العراقی نے مقتدا الصدر کے حوالے سے کہا کہ "ہم تمام مسلح دھڑوں کو منجمد کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ اگر کوئی ہے بشمول (السلام بریگیڈز) کے۔ البتہ صلاح الدین گورنری میں مسلح دھڑا برقرار رکھا گیا ہے۔ تمام صوبوں میں ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی لگاتے ہیں۔سامرا اور اس کے اطراف یا مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی ہدایت اور احکامات کے مطابق دیگر تمام مقامات پرمسلح دھڑے ختم کر دیئے گئے ہیں۔

صدری تحریک کے رہنما نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ عراقی مسلح افواج کے کمانڈر کو عصائب اہل الحق اوراس جیسے دوسرے مسلح دھڑوں کو نکیل ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے اپنے اس مطالبے پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں "بعد میں دیگر اقدامات" کرنے کے خلاف انتباہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منجمد کرنے کا فیصلہ صوبہ بصرہ میں تنازعات کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ الصدر کا یہ موقف جنوبی عراق کی بصرہ گورنری میں بار بار جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

سرایا السلام ایک مسلح تنظیم ہے جو صدری تحریک سے وابستہ ہے جو کہ 2014 میں نینوی گورنری اور صلاح الدین، کرکوک، انبار اور دیالی گورنری کے کچھ حصوں پر دہشت گرد تنظیم داعش سے وابستہ مسلح گروپوں کے کنٹرول کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔

الصدر نے صلاح الدین گورنری میں سامرا ضلع کو خارج کرنے کی وجہ نہیں بتائی، لیکن سامرا میں "السلام بریگیڈز" ایک مذہبی عبادت گاہ کی حفاظت کر رہی ہے جسے 22 فروری 2006 کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس سے فرقہ وارانہ فسادات ہوا اور تشدد ہوا جس میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔

مسلح دھڑوں کو منجمد کرنے کا اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی بحران تقریباً ایک سال سے جاری ہے، جس کی وجہ سے جھڑپیں ہوئیں جن میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں