چودہ سالہ بچے سمیت دو فلسطینیوں کی شہادت کے 24 گھنٹے بعد ایک اور فلسطینی شہید

فلسطینی وزارت خارجہ نے فلسطینیوں کو پھانسی دینے کے مترادف قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے جنین کے علاقے میں ہفتے کے روز ایک فلسطینی شہید ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ ایک چودہ سالہ فلسطینی بچے سمیت دو فلسطینیوں کی شہادت کے بعد ایک دن بعد پیش آیا ہے۔

مغربی کنارے میں جنین کو اسرائیلی فوج نے آج کل اپنے خصوصی ہدف کے طور پر سامنے رکھا ہوا ہے۔ الجزیرہ سے وابستہ امریکی شہری اور صحافی خاتون شیریں ابو عاقلہ کو بھی اسرائیلی فوج نے اسی جین کے علاقے میں ماہ مئی کے دوران شہید کیا تھا۔

اس واقعے کی اطلاع کچھ ہی دیر بعد سامنے آگئی جب فلسطینی ہلال احمر نے کہا کہ طبی عملہ ایک زخمی فلسطینی کو لے کر آئے۔ تاہم اس بارے میں اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے پوچھنے کے باوجود کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ حتی ٰ کہ جنین میں ہفتے کے روز کی گئی کارروائی کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 14 سالہ فلسطینی بچہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنا تھا۔ جبکہ گزشتہ روز دوسرے فلسطینی کو قابض اسرائیلی فوج نے رام اللہ کے علاقے میں نشانہ بنایا تھا۔

اس بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے رام اللہ میں یہ فائرنگ ایک 'مولوٹو کاک ٹیل ' پھینکنے والے کے شبہ میں کی تھی۔ تاہم فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں جمعہ کے روز کے دونوں واقعات کو پھانسی کے مترادف قرار دیا ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج نے کئی ماہ سے جنین کے علاقے میں مسلسل کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ ان واقعات میں درجنوں فلسطینیوں کی فلسطینی وزارت خارجہ کے الفاظ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے ' پھانسی' دی جا چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں