ہیکرز نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو سخت پیغام دے دیا

ٹی وی کا نیوز بلیٹن روک کر کہا'آپ کے ہاتھ ہمارے نوجوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں '

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی حکومت کے مخالف ہیکروں نے ایک نیوز بلیٹن کے دوارن ٹی وی کی نشریات ہیک کر کے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو یہ سخت پیغام ' آپ کے ہاتھ ہمارے نوجوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں' دے دیا۔

یہ ہیکر گروپ 'عدالت علی' کے نام سے سامنے آیا ہے۔ اس ہیکر گروپ نے ٹی وی نشریات ہیک کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ واضح رہے ٹی وی کی نشریات گذشتہ شام چھ بجے ہیک کی گئیں۔

اس دوران دکھائی گئی ایک تصویر میں ظاہر کیا گیا ہے کہ علی خامنہ ای آگ کے شعلوں اور بندوقوں کے کراس میں گھرے ہوئے ہیں۔

ایران بائیس سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد مسلسل احتجاجی مظاہروں کی زد میں ہے۔ امینی کو 13 ستمبر کو ایران کی اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور تین دن بعد امینی کی لاش سامنے آگئی تھی۔

تاہم ایک سرکاری ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امینی کی موت پولیس تشدد سے نہیں دماغی مرض کی وجہ سے ہوئی تھی ، کیونکہ اس خاص قسم کے دماغی مرض کی وجہ سے انسانی اعضا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

دوسری جانب امینی کے والدین اس امر کا انکار کرتے ہیں کہ امینی کسی قسم کے عارضے میں مبتلا تھی۔ امینی کی موت کے بعد مسلسل احتجاجی مظاہروں کے دوران 150 سے زائد افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے اور ہزاروں لوگ جیل بھیج دیے گئے ہیں۔

ایران انٹر نیشنل نے رپورٹ کیا ہے کہ عدالت علی نامی ہیکرز گروپ نے اس مختلف نیوزویب سائٹس اور ٹی چینلز کو سال کے شروع میں ہیک کرنا شروع کیا تھا۔ یہ ایرانی رجیم کے خلاف سرگرم ہیکرز گروپ ہے۔

یہ ہیکر گروپ 'مرگ بر آمر' جیسے سخت نعروں پر مبنی پیغام بھی ہیکنگ کے بعد چھوڑ چکا ہے ۔ اب امینی کی ہلاکت کے بعد اس نے نئے سرے اپنی سرگرمیوں کو موثر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسی لیے خامنہ ای کو ہدف بنا کر اپنے پیغامات بھجوائے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں