’’ہم سکیورٹی بحال کریں گے‘‘ : ایرانی آرمی چیف کی مظاہرین کو دھمکی

خونی کریک ڈاؤن کے باوجود احتجاج چوتھے ہفتے میں داخل ، پورے ایران میں جھڑپیں شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف محمد باقری نے ستمبر کے وسط سے جاری احتجاجی مظاہروں میں شریک اپنے ہم وطنوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج ملک کی سلامتی ہر صورت بحال کر دیں گی۔

ایران کی خبر ایجنسی ’’ فارس‘‘ کے مطابق ہفتہ کے روز محمد باقری نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کو اس وقت مختلف شعبوں میں مشترکہ خطرات کا سامنا ہے اور ان خطرات سے نمٹنے کیلئے تیاری کی اشد ضرورت ہے۔

ایرانی آرمی چیف کا یہ بیان ان حالات میں سامنے آیا ہے جب 16 ستمبر کو خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے چوتھے ہفتے میں داخل ہوگئے ہیں۔ اس احتجاج کے دوران سکول کی طالبات نےبھی حکومت مخالف نعرے لگائے۔ کارکنوں نے ہڑتالیں کیں اور پورے ایران میں جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔

واضح رہے حجاب کی باپندی نہ کرنے پر ایران کی اخلاقی پولیس نے مہسا کو گرفتار کیا تھا ۔

لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کیلئے ایرانی حکام نے انٹرنیٹ سروس پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں تاکہ سکیورٹی کریک ڈاؤن کی تصاویر کو آگے پھیلنے سے روکا جا سکے۔

ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق سکیورٹی کریک ڈاؤن میں کم از کم 92 مظاہرین مارے گئے ہیں۔ اس کریک ڈاؤن کے باعث ایران کی مغربی دنیا بالخصوص امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ایران مسلسل غیر ملکی طاقتوں پر احتجاج کو بھڑکانے کا الزام عائد کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے تہران نے کہا تھا کہ فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور ہالینڈ اور دیگر ملکوں کے 9 غیر ملکیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں