20 مختلف اقسام کی پیداوار: سعودیہ اپنے 52 فیصد آموں میں خود کفیل ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت نے بتایا ہے کہ سعودیہ نے آم میں 51.7 فیصد کی شرح سے خود کفالت حاصل کرلی ہے۔ سعودی عرب میں اب 6872 ہیکٹر کے علاقے میں لگائے گئے درختوں سے سالانہ 86.4 ہزار ٹن آم کی پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔

وزارت کی جانب سے 8 اکتوبر 2022 کو جاری رپورٹ کے ایک حصہ میں کہا گیا کہ آم ایک گرمیوں کا ز یادہ آمدن دینے والا پھل ہے۔ یہ سعودیہ کے بہت سے علاقوں میں اگایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر جازان، صبیا، ابو عریش، الدرب، صامطہ اور بیش کے علاقوں میں اس کو کاشت کیا جاتا ہے۔ مکہ مکرمہ، قنفذہ، لیث اور اضم میں بھی اس کی پیداوار ہوتی ہے۔ باحہ کے علاقے میں یہ المخواۃ اور قلوۃ میں پایا جاتا ہے۔ تبوک، عسیر، نجران، مدینہ منورہ میں بھی آم کے درخت لگائے گئے ہیں۔

آم کی پیداوار کا موسم

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آم کی پیداوار کا سیزن اپریل سے اگست تک ہے اور اس عرصے کے دوران سعودیہ آم کی 20 سے زائد اقسام پیدا کرتا ہے۔ ان اقسام میں ٹومی ایٹکنز، کیٹ، کینٹ، الفونس، سکری، الزبدۃ، الہندی، الجلن، لنگڑا، جولی، سنٹیشن، فجر کلانڈ، السمکہ، اویس، تیمور، ناعومی، ویلینسیا، عیون المھا، الزل، پامر، تھائی اور پریبو شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آم میں صحت کے لئے بہت سے فوائد موجود ہیں۔ یہ وٹامنز، معدنیات اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے ۔ آم نظام انہضام اور دل کی صحت کے لئے مفید ہے، یہ قوت مدافعت کو مضبوط کرتا ۔ آم کینسر کی بعض اقسام کے خطرے کو بھی کم کردیتا ہے۔ خون کی کمی دور کرتا ہے اور جلد اور آنکھوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

واضح رہے کہ وزارت زراعت کی جانب سے مقامی پیداوار کی حمایت اور مقامی زرعی مصنوعات کے استعمال کی ترغیب کی مہم چلائی جاتی ہے۔ مقامی آم کے فروغ کی مہم کا وقت بھی آچکا ہے۔ وزارت اس دوران مقامی لوگوں کو موسمی پھل کھانے کی اہمیت سے آگاہ کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں