امریکہ اور اسرائیل ’’ فسادی آپریشن روم‘‘ چلا رہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے سلامتی امور ماجد میر احمدی نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ایران میں فسادی کارروائیوں کا آپریشن روم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام ایرانی "اخلاقی پولیس" کی حراست میں کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران میں ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں لگایا۔

ماجد میر احمدی نے اتوار کو فارس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ دشمن نے ماضی کے مقابلے میں ایران پر بڑا حملہ کیا ہے۔ دشمن ڈھکے چھپے اور کھلے انداز میں ہمارے خلاف ہر طرح کی توانائیاں صرف کر رہا اور یہ اعلان کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہا کہ وہ ایران کو غیر مستحکم کرنے کیلئے اپنی مالی اور میڈیا کے استعمال سمیت اپنے دیگر تمام ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔

مسلح افواج عوام سے محبت کرتی ہیں

اسی دوران ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف عبدالرحیم موسوی نے دعویٰ کیا کہ فوج، پاسداران انقلاب، باسیج اور پولیس ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران میں حالیہ احتجاج کے پیچھے واشنگٹن اور تل ابیب ہے۔

موسوی نے دعویٰ کیا کہ مسلح افواج عوام سے محبت کرتی ہیں اور یہ سکیورٹی ادارے ملکی سلامتی کو برقرار رکھنے اور خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں۔

کئی مسائل پر غصہ

واضح رہے ایران کے دارالحکومت تہران میں 16 ستمبر کو خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے چوتھے ہفتے میں داخل ہوگئے ہیں۔ ایرانی اخلاقی پولیس نے حجاب نہ کرنے پر مہسا امینی کو گرفتار کیا تھا۔

مہسا کی اس موت کے بعد ایران میں پہلے سے موجود کئی مسائل پر غصے کی آگ پھر بھڑک اٹھی ہے۔ ان میں ذاتی آزادیوں پر پابندی، خواتین سے متعلق حجاب سمیت دیگر سخت قوانین کا اطلاق اور معاشی بحران جیسے مسائل شامل ہیں ۔

185 مارے گئے۔

حالیہ احتجاج کو دبانے کیلئے ایرانی حکام نے جبر اور تشدد کے طریقوں کا سہارا لیا ہے۔ ان طریقوں میں انٹرنیٹ منقطع کرنے اور براہ راست گولیاں چلانے اور مظاہرین پر تشدد کرنا بھی شامل ہے۔

سیاسی عہدیدار بھی اپنے ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خیانت کے مرتکب ہو رہے اور احتجاج کرنے والوں کو بیرون ملک سے وابستہ قرار دے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق مظاہروں کے دوران اپنائے گئے جبری کارروائیوں میں 19 بچوں سمیت 185 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں