بغیر اجازت کے ارکان پارلیمنٹ کی ایوان میں بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سیاست دانوں کی آڈیوز اور ویڈیوز کے لیک ہونے کے واقعات صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ اس نوعیت کے بعض عجیب واقعات دوسرے ملکوں میں بھی دیکھےجا سکتے ہیں۔

عراق میں ایوان کے اجلاس کے دوران بغیر اجازت کےارکان کی بنائی گئی ایک ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور اس پر عوام کی طرف سے بھی سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران عراق کے پارلیمنٹیرین کے ’ٹویٹر‘ پر نشر کی گئی ویڈیو صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ ویڈیو پارلیمنٹ کےاجلاس کے دوران ایک رکن نے بغیر اجازت کے بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا۔

سابق وزیراعظم نوری المالکی کی جماعت ’دولۃ القانون‘ کے رکن باقرکاظم الساعدی نے کئی ویڈیوز میں خواتین اور مرد ارکان کی ان کے علم میں لائے بغیر ویڈیوز بنائی ہیں جس پرعراق میں عوامی حلقوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

چھچھوری حرکت

اس ویڈیو پربعض نے سخت تنقید کی ہے اور بعض صارفین اس کی حمایت کرتے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

دوسری طرف کچھ لوگوں نے ویڈیوزجن میں خواتین ارکان اپنے معمول کے مطابق اپنے کام کے دوران دیکھا جا سکتا ہے پر سخت تنقید کی ہے۔ ناقدین نے ویڈیو بنانے والے رکن پارلیمنٹ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر مواد کو فلمانے اور شائع کرنے سے پہلے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت پر زور دیا۔

جب کہ بعض صارفین نے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں داخل ہونے سے پہلے اراکین اسمبلی کے فون واپس لینے کا مشورہ دیا۔ کچھ صارفین اس ویڈیو کی حمایت بھی کررہے ہیں۔

'بڑے سکینڈلز'

قابل ذکر ہے کہ یہ کلپس پارلیمنٹ کے ہال کے اندر عراق پر ایرانی بمباری پر بحث کے لیے وقف ایک اجلاس کے دوران فلمائے گئے تھے۔

تاہم ویڈیو پر آنے والے رد عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ شہری اس پرخوش نہیں ہیں۔ بعض نے ویڈیو بنانے کے واقعے کو معزز ایوان کے رکن کی ’چھچھوری حرکت‘ قرار دیا ہے جب کہ بعض اسے ایوان میں موجود لوگوں کے اسکینڈلز قرار دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں