مدینہ منورہ کا وہ کونسا کنواں ہے جس کا نام پیغمبر اسلام نے تبدیل فرمایا تھا

’الیسیرہ‘ کنواں مسجد قبا کےقریب واقع ہے، آنحضورﷺ نے اس کنوئیں کا پانی نوش فرمایا اوروہاں نماز ادا کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مدینہ منورہ میں بہت سے کنوئیں ہیں جو عہد نبوی اور اس سے پہلے کے دور کی یادگار ہیں۔ ان میں سے بعض کنوؤں کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کےدور پرنور سے ہے۔ ان میں سے بعض کنووں سے آپ ﷺ نے پانی نوش فرمایا، بعض پرغسل کیا اور بعض کے پاس سے آپﷺ کا گذر ہوا تھا۔

"الیسیرہ کنواں" ان کنوؤں میں سب سے نمایاں ہے جو پیغمبر اسلام کے دور سے موجود تھے۔

اس حوالے سے تاریخ کے محقق اور سیاحوں کے رہ نما عبداللہ بن زعیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مدینہ منورہ میں بہت سے انبیاء کے کنویں موجود ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے متعلق ہیں۔ پتھروں سے بنے پرانے مکانات کی باقیات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کنواں ایک تاریخی مقام کا حامل ہے۔ اس کا نام بدل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’الیسیرہ‘ رکھا اور اس سے وضو کیا۔ صحابی ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے اس پر غسل کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے شہرعالیہ میں اس کنوئیں جو شرف دیدار بخشا۔ آپﷺ نے وہاں موجود لوگوں سے اس کنوئیں کی بابت پوچھا۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ ’عسیرہ‘ کا کنواں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج سے اس کا نام ’الیسیرہ‘ ہوگا۔

سعودی محقق نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ "العسیرہ" کو مشقت کے مقابلے میں "الیسیرہ" یعنی کشادگی اور آسانی کا نام دیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنویں سے وضو کیا اور اس سے پانی نوش فرمایا، نماز بھی پڑھی۔ آپ ﷺ نے اس کنوئیں کے پانی کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی دعا سے قبل اس کا پانی نمکین تھا اور آپ کی دعا سے اس کا پانی میٹھا ہوگیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں