اسرائیل اورلبنان کے درمیان سمندری حدبندی کا ’تاریخی معاہدہ‘ طے پاگیا:یائرلاپیڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم یائرلاپیڈ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان میں طویل عرصے سے متنازع سمندری سرحد کی حدبندی کے لیے امریکا کی ثالثی میں معاہدہ طے پاگیا ہے۔اس سے ممکنہ طور پر غیر ملکی گیس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

لاپیڈ کے دفتر سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان سمندری تنازع کو حل کرنے کے لیے تاریخی معاہدے تک پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم نے اس تاریخی کامیابی کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ اس سے اسرائیل کی سلامتی مزیدمضبوط ہوگی۔

اس سے قبل لبنان کے صدرمیشال عون نے کہا تھا کہ امریکی سفیر آموس ہوچسٹین کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ حتمی متن ’لبنان کے لیے اطمینان بخش‘ہے اور اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ’’حد بندی کے معاہدے کا اعلان جلد کردیا جائے گا‘‘۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین سرحدی تنازع کو حل کرنے کے لیے بات چیت 2020 میں شروع ہوئی تھی لیکن کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے سے قبل انھیں بار بار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل اور لبنان ٹیکنیکل طور پرحالتِ جنگ میں ہیں۔

گذشتہ ہفتے اس معاہدے کو اس وقت دھچکا لگا جب اسرائیل نے کہا کہ وہ ہوچسٹین کے حتمی مسودے میں لبنان کی مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

تاہم فریقین کے درمیان حالیہ دنوں میں امریکا کی ثالثی میں مذاکرات جاری رہے ہیں اور وہ حتمی معاہدے کے لیے قابل قبول شرائط پر اختتام پذیر ہوئے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کےبیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹے کے دوران میں اسرائیل کو معاہدے کا مسودہ موصول ہوا ہے جو اس کے تمام سلامتی، اقتصادی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم سکیورٹی کابینہ کا اجلاس طلب کریں گے۔اس کے بعد حکومت کا ایک خصوصی اجلاس ہوگا۔اس میں معاہدہ منظوری کے لیے حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد اس کو کنیسٹ (پارلیمنٹ) میں پیش کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں