تبوک میں ناپید ہوجانیوالے 16 سے 80 ملین سال قدیم سمندری جانوروں کی باقیات دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بحیرہ احمر کے ساحل پر ضبا اور املج اضلاع کے درمیان تبوک کے علاقہ میں سال 2022 کے لئے سعودی جیولوجیکل سروے کی قدیم حیات کے مطالعہ اور جانداروں کی باقیات تلاش کرنے والی ٹیم نے ’’ ازلم فارمیشن‘‘ میں اپنا کام فروری میں شروع کیا تھا۔

اس ٹیم نے ناپید ہوجانے والے سمندری جانوروں کی باقیات دریافت کرلی ہیں۔ یہ وہ جانور ہیں جن کی عمریں 16 سے 80 ملین سال کے درمیان تھیں۔ ان دریافتوں سے علاقے میں فوسلز کی موجودگی کے مقامات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ انکشاف مستقبل میں بحیرہ احمر کے ترقیاتی منصوبوں کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے سیاحوں کی زبردست توجہ کھینچنے کا باعث بنے گا۔

بحیرہ احمر اور امالا پراجیکٹ کے علاقوں میں مختلف قسم کے فقاری یعنی ریڑھ کی ہڈی والے جانور اور غیر فقاری جانوروں کے فوسلز اور پودوں کی باقیات موجود ہیں ۔ یہ وہ جانور تھے جو جدید اور زمانہ وسطی کے دور سے تعلق رکھنے سمندری اور خشکی کے ماحول میں رہتے تھے۔

ان میں سے کچھ فوسلز سمندری رینگنے والے جانوروں سے تعلق رکھتے ہیں جو 145.5 اور 65.5 ملین سال کے درمیان پھیلے ہوئے زمانے کریٹاسیئس دور میں پائے جاتے تھے۔ ان جانوروں میں موساسورس اور پلیسیوسار جیسے جانور شامل ہیں۔

موساسورس سمندری رینگنے والے جانور ہیں جو میسوزوئیک دور میں رہتے تھے اور مگرمچھ جیسے بڑے جسم کی خصوصیت رکھتے تھے۔ ان کے اگلے اور پچھلے حصے فلیپرز کی شکل میں ہوتے تھے جو پانی میں تیرنے اور توازن قائم کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ پلیسیوسار موساسورس سے مختلف ہوتے ہیں۔ پلیسیوسار کھوپڑیوں کے چھوٹے سائز، گردنوں کی لمبائی اور چپٹے جسم کے پتلے پن کی وجہ سے موساسورس سے مختلف ہوتے تھے۔

ایوسین (Eocene ) کے تلچھٹ سے بھی فوسلز کے نمونے نکالے گئے ہیں۔ یہ نمونے 45 ملین سال پرانے تھے۔ جن سے دریائی پری سے تعلق رکھنے والے ناپید سمندری ممالیہ جانوروں یا ڈوگونگ جیسے جانوروں کے متعلق معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہ جانور تھے جو گرم پانیوں میں رہتے تھے اور سمندری غذا پر اکتفا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ ساحلی علاقوں میں رہنے والے کچھوؤں اور مگرمچھ کے اعضاء کے کچھ حصے بھی دریافت ہوئے ۔ یہ اس وقت کے جانور ہیں جب بحیرہ ٹیتھیس جزیرہ نما عرب کے بیشتر حصے پر محیط تھا۔ یہ ارضیاتی تاریخ کا ایک دور ہے جس کا تخمینہ جزیرہ نما عرب کے افریقہ سے جدا ہونے اور بحیرہ احمر کے کھلنے سے 20 ملین سال قبل کا لگایا گیا ہے۔

اس کے بعد ٹیم الجوف کے علاقے میں الرشراشیہ فارمیشن میں پہنچی ۔ یہاں سے ایک نایاب قسم کی دیوہیکل ایوسین وہیل دریافت ہوئی، اس وہیل نے بحیرہ ٹیتھیس کے گرم پانیوں کو افزائش نسل کے لیے ایک مثالی ماحول کے طور پر استعمال کیا تھا۔

دریافت ہونے والی وہیل کی لمبائی اس کے سر کے اگلے حصے سے اس کی دم کے سرے تک 18 سے 20 میٹر کے درمیان تھی۔

زمینی مشاہدات اور ریڑھ کی ہڈی کے ایک حصے کی درست پیمائش سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے 48 سینٹی میٹر چوڑے تھے۔ کھدائی کے عمل کے دوران اس نے اہلکاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ عالمی سطح پر دستیاب ڈیٹا اور سائنسی درجہ بندی کے حوالے سے یہ امکان موجود ہے کہ وہیل کی یہ قسم باسیلوسارس (Basilosaurus) ہے۔ یہ ایک سمندری ممالیہ ہے اور ایوسین وہیل میں سب سے بڑی ہے۔

ماہرین کی ٹیم نے اپنا تحقیقی کام سورعسفان فوسلی مقام پر بھی جاری رکھا۔ سور اسفان ایوسین کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سائٹ سے شارک کے دانت اور شیر مچھلی کی باقیات دریافت ہوئیں۔ اسی طرح یہاں سے بھی مگرمچھ کے مہروں اور کچھوؤں کے ڈھانچے ملے۔

دریافت ہونے والے ان فوسلز کو تربہ الطائف گورنری سے ملنے والے کئی فوسل سائٹس کے درمیان کنکشن کا محور سمجھا جاتا ہے۔

عسفان کی فوسل دیوار لوئر ایوسین دور سے تقریباً 55 ملین سال پہلے بنی تھی ۔یہ عسفان گورنری کے شمال مغرب میں بحیرہ احمر کے قریب واقع ہے۔ اس کی لمبائی ایک کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس کی موٹائی چھ سے نو میٹر تک ہے۔ اس کی اونچائی زیادہ سے زیادہ 11 میٹر ہے۔

عسفان کی فوسل دیوار کیلکیری تلچھٹ پر مشتمل ہے۔ اس تلچھٹ میں غلبہ ڈولومیٹک اور فاسفو- گلوکونائٹ کا ہے۔ اس میں بڑی مقدار میں فوسلز موجود ہیں۔ ان میں جینس کارڈیٹا کے شیلوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس میں بونی فش، کچھوؤں اور مگرمچھوں کی باقیات بھی شامل ہیں۔

اس ارضیاتی حصے کی تہیں اصل میں کیلکیریئس نامیاتی اصل کے مجموعی ماحول میں جمع ہوئی ہیں۔ دسیوں ملین سالوں کے بعد اور بحیرہ احمر کے کھلنے اور جزیرہ نما عرب کی افریقہ سے علیحدگی کے ساتھ زمین کی حرکات نے اس ارضیاتی ڈھانچے کی پیداوار کو متاثر کیا تھا۔

کمیشن کے سروے اور کھدائی کے مرکز میں فوسل ایکسپلوریشن ٹیم اس وقت مملکت کے مختلف علاقوں میں اپنے تحقیقی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے کام کا مقصد قدیم زمانے سے ناپید ہونے والے فوسلز کو تلاش کرنا ہے تاکہ ان فوسلز سے اس وقت کے ماحول کو بھی سمجھا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں