تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ ’’خالصتاً اقتصادی‘‘ ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے اور سعودی عرب سمیت اسے تمام رکن ممالک نے متفقہ طور پر قبول کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا "اوپیک پلس ممالک نے ذمہ داری سے کام کیا اور مناسب فیصلہ کیا۔"

انہوں نے کہا کہ "اوپیک پلس ممالک مارکیٹ کو مستحکم کرنے اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں اور صارفین کے مفادات کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔" انہوں نے وضاحت کی کہ "واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اسٹریٹجک ہیں اور خطے کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد پر قائم ہیں۔"

سعودی وزیر خارجہ نے ’العربیہ‘ کو بتایا کہ "ریاض اور واشنگٹن کے درمیان فوجی تعاون دونوں ممالک کے مفادات کے لیے جاری ہے اور اس نے خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات ادارہ جاتی ہیں جب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قائم ہیں۔

روس- یوکرائن جنگ پر انہوں نے کہا کہ "ہم تنازع کو روکنے کے لیے یوکرینی بحران کے فریقین کو بات چیت کی طرف لانا چاہتے ہیں۔"

یمنی بحران کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ "یمن میں جنگ بندی میں توسیع کی کوششیں ابھی تک جاری ہیں۔ یمنی حکومت نے یمن کے مفاد کے حوالے سے ایک اعلی ذمہ داری کے ساتھ بڑی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیر خارجہ نے العربیہ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ابھی تک ٹھوس نتائج تک نہیں پہنچی ہے اور ہم مذاکرات کے چھٹے دور کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

چین کے ساتھ تعلقات پر بن فرحان نے بتایا کہ چین کے ساتھ تعلقات پہلی سطح پر اقتصادی ہیں اور ہمارے پاس بہت سے مشترکہ اقتصادی منصوبے ہیں۔"

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عراق میں جاری سیاسی بحران جلد ختم ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں