متحدہ عرب امارات : سرکاری و نجی شعبے کے کارکنوں کے لیےانشورنس پالیسی نافذ العمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات میں سرکاری و نجی شعبے میں کام کرنے والے سب کارکنوں کو انشورنس پالیسی کے نافذ کردہ نظام سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت تمام کارکن بے روز گاری کے دوران انشورنس سکیم کے لیے رجوع کر سکتے ہیں۔

اس سکیم کے تحت ان بے روز گار ہوجانے والے کارکنوں کو ایک محدود وقت کے لیے ایک متعین رقم حاصل کر سکیں گے۔ یہ اعلان امارات کے وزیر برائے انسانی وسائل و امارات کاری نے کیا ہے۔

یہ رقم متعلقہ کارکناوں کو ان کی تنخواہ کے ساٹھ فیصد کے برابر ماہانہ بنیادوں پر دی جائے گی۔ جو 450 ڈالر ماہانہ سے زیادہ نہیں ہو سکے گی۔ لیکن یہ تین ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے نہیں دی جائے گی۔

وزیر انسانی وسائل ڈاکٹر عبدالرحمان العور نے کہا امید ہے کہ اس نظام سے کارکنوں کی زندگی میں مالی استحکام آئے گا اور ان کا معیار زندگی بھی قائم رہے گا۔ اس سلسلے میں امارات کے رہنے والے ایک انشورنس پیکج کے تحت ایک خاص رقم ہر سال جمع کرائیں گے جسے بے روزگاری فنڈ کا نام دیا جائے گا۔

وزیر انسانی وسائل نے کہا ' مقصد یہ ہے کہ امارات کو دوسری اقوام کے مقابلے آگے بڑھایا جائے اور متحدہ امارات میں ملازمت کے لیے لوگوں میں دلچسپی بڑھائی جائے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس پالیسی کے متعارف کرانے کا یہ بھی مقصد ہے کہ ٹیلنٹ کو بیرون ملک جانے سے روکا جائے اور اپنے ہاں تعمیر ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔

بے روزگاری کی صورت میں یہ دعویٰ کرنے والے کارکنوں کے لیے لازم ہو گا کہ انہوں نے خود بھی بارہ ماہ تک اپنی انشورنس فیس ادا کی ہو گی اور اس سے قبل اپنی ملازمت چھوڑ کر نہیں گئے ہوں گے۔اس سے دو طرفہ قانونی تحفظ میسر آئے گا اور حالات کار میں بہتری آئے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں