عرب ملکوں کے نظروں سے اوجھل پانچ خوبصورت سیاحتی مقامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بہت سے ممالک اپنے سیاحتی مقامات سے دنیا کو آگاہ کرنے کیلئے اشتہاری مہمات چلاتے ہیں۔ تاہم ایسی مہموں کے باوجود بالخصوص عرب ممالک کے زبردست سیاحتی مقامات ہماری نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں۔ غالبا سوشل میڈیا ہی ان مقامات کو مناسب مقام نہ ملنے کے حوالے سے ہونے والی اس ناانصافی کی ذمہ دار ہے۔

آئیے نظر انداز کئے جانے والے ایسے خوبصورت مقامات پر نظر ڈالتے ہیں ۔

ہم مثال کے طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، شام اور لبنان جیسے ملکوں کے مقامات کا انتخاب کر رہے ہیں۔

مصمك قلعہ

یہ قلعہ سعودی آثار قدیمہ کے مقامات سے میں ایک نمایاں مقام ہے۔ یہ 19 ویں صدی کے آخر تک معروف رہا۔

یہ قلعہ مربع شکل کا ہے اور کنکریٹ کی مٹی کے ڈھانچے سے بنا ہے۔ یہ پرانے شہر "دیرا" کے مرکز میں واقع ہے ۔ اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ سعودی عرب کو آل سعود خاندان کا لقب دینے میں بھی اسی قلعہ کا کردار ہے۔ 1902 میں ریاض شہر کی بحالی کیلئے اس قلعہ میں بن سعود افواج جمع ہوئی تھیں جس کے بعد سعودی عرب کو آل سعود خاندان کا خطاب ملا۔

قلعہ بہلاء

اس قلعہ کو انگریزی میں "بہلا فورٹ" کہا جاتا ہے۔ اس کی ابتدا بنی نبھان قبیلے سے ہوئی ہے۔

یہ دارالحکومت مسقط سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ یہ ہر جانب سے کھجور کے درختوں کی موجودگی سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ ایک بہت بڑی دیوار ہے جو باہر سے اسے گھیرے ہوئے ہے۔

یہ شہر سلطنت عمان کے بہترین سیاحتی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں بہت سے ثقافتی اور سیاحتی مقامات شامل ہیں جو ہر جگہ سے آنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

اس میں جامع مسجد، نخلستان کی عظیم دیوار اور ایک مشہور بازار بھی ہے۔ اس بازار میں روایتی مصنوعات اور سامان فروخت کیا جاتا ہے۔ اس میں مخصوص مقامی ریستوران اور بہت بڑے تجارتی مراکز موجود ہیں۔ یہاں مٹی کے برتن اور دیگر بہت سے چیزیں بنانے والی صنعتیں موجود ہیں۔

ایڈونچر ویلی

العین وادی متحدہ عرب امارات میں سب سے خوبصورت اور تخلیقی نوعیت کا مقام ہے جو سیاحوں کی اپنی جانب کھینچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ مقام پانی اور پانی کے کھیل سے لطف اندوز ہونے والوں کی ایک منزل ہے۔ اس میں مصنوعی لہروں والی ایک جھیل بھی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے طویل مصنوعی لہروں والی جھیل ہے۔

لہر کی لمبائی 3.3 میٹر ہے، یہاں سرفنگ، واٹر سکینگ اور کیکنگ سے لطف اندوز ہونا ممکن ہے۔

سلطنت ’’ کانا‘‘

امریکی آثار قدیمہ کے مشن نے اس ’’کانا سلطنت‘‘ کو کو دریافت کیا اور تصدیق کی ہے کہ یہ 10 ہزار سال پرانی مملکت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ ان پہلی پہلی تہذیبوں میں سے ایک تھی جس نے زراعت پر انحصار کیا اور تانبے کو دریافت کیا۔

کانا سلطنت کو مشرقی شام کی قدیم سلطنتوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ وہ سلطنت ہے جو دریائے فرات اور خبور کے سنگم کے قریب دوسری صدی قبل مسیح میں پروان چڑھی تھی۔

پہاڑی پگڈنڈی

لبنان کی پہاڑی پگڈنڈی ایک لمبی پیدل سفر کی پگڈنڈی ہے جو لبنان کے شمال میں عندقت سے جنوب میں مرجعیون تک کے 440 کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلی ہوئی ہے۔

یہ راستہ 75 سے زیادہ قصبوں اور دیہاتوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ ان میں 29 شمالی دیہات، لبنانی پہاڑ شمالی کے 23 گاؤں، لبنان پہاڑ جنوبی کے 10 گاؤں اور 16 جنوبی دیہات شامل ہیں۔

یہ علاقہ سطح سمندر سے 600 سے 2000 میٹر کی بلندی پر قدرتی ذخائر بناتا ہے۔

اس پگڈنڈی لبنان کے پہاڑوں کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی دولت کو اجاگر کرتی ہے۔

یہ ٹریل ماحولیاتی سیاحت کے ذریعے دیہی علاقوں میں اقتصادی مواقع کو بھی وسعت دیتا ہے۔

ذکر کردہ پانچ سیاحتی مقامات میں سے ہر ایک کی اپنی خصوصیت اور خوبصورتی ہے۔ تاہم یہ سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ان کو دیکھ کر کوئی بھی ان کے محل وقوع کا اندازہ لگاتا ہے نہ ہی ان کے متعلق زیادہ جانتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں