کردسیاست دان عبداللطیف رشیدعراق کے نئے صدر منتخب

پارلیمان میں بڑے بلاک کوآرڈینیشن فریم ورک کے نامزد وزیراعظم شیاع السودانی کو نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کی پارلیمنٹ نے جمعرات کے روز کرد سیاست دان عبداللطیف رشید کو ملک کا نیا صدر منتخب کرلیا ہے۔انھوں نے اپنے انتخاب کے فوری بعد محمد شیاع السودانی کو وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔

دو قانون سازوں کے مطابق نئے صدرجمہوریہ کے انتخاب سے اب نئی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے اورملک میں ایک سال سے جاری سیاسی تعطل کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔

78 سالہ رشید پیشے کے اعتبار سے انجینئر اور برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔وہ سنہ 2003 سے 2010ء تک عراق کے آبی وسائل کے وزیر رہ چکے ہیں۔

عراق کے دستوری بندوبست کے مطابق صدر کا منصب روایتی طور پرکردوں کے لیے مخصوص ہے۔یہ بڑی حد تک ایک رسمی عہدہ ہے۔ فرقہ وارانہ تنازعات سے بچنے کے لیے وضع کردہ اقتدار کی تقسیم کے نظام کے تحت عراق کا صدر ایک کرد ہوتاہے، وزیراعظم شیعہ اوراس کی پارلیمنٹ کا اسپیکر سنی ہوتاہے۔

عبداللطیف رشید کا انتخاب نئی حکومت کی تشکیل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔انھوں نے سابق صدر برہم صالح کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ دوسری مدت کے لیے صدارتی امیدوار تھے۔

انھوں نے پارلیمان میں سب سے بڑے بلاک کوآرڈینیشن فریم ورک کے نامزد شیاع السودانی کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔رابطہ فریم ورک ایران سے وابستہ اہلِ تشیع کے دھڑوں کا اتحاد ہے۔ شیاع السودانی اس سے قبل عراق کے انسانی حقوق، محنت اور سماجی امور کے وزیررہ چکے ہیں۔

پارلیمان میں نئے صدر کے انتخاب سے قبل گرین زون پر راکٹ حملہ کیا گیا تھا۔فوج کے ایک بیان کے مطابق نوراکٹ گرین زون کے آس پاس گرے ہیں۔اس حملے میں سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت کم سےکم 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جمعرات کے روزنئے صدرجمہوریہ کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ کا یہ اجلاس پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے ایک سال بعد ہوا ہے۔گذشتہ سال انتخابات میں مقبول شیعہ عالم دین مقتدیٰ الصدر کی قیادت میں بلاک نے سب سے نشستیں حاصل کی تھیں لیکن وہ حکومت کی تشکیل کے لیے درکار حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

مقتدیٰ الصدر کے بلاک کے 73 قانون سازوں نے اگست میں رکنیت سے استعفا دے دیا تھا۔خود مقتدیٰ الصدر نے سیاست کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد بغداد میں تشدد کے بدترین واقعات رونما ہوئے تھے اور ان کے وفاداروں نے ایک سرکاری محل پر دھاوا بول دیا تھا اور پارلیمان پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔

ان کی حریف شیعہ گروہوں سے جھڑپیں ہوئی تھیں۔ان کے زیادہ مخالفین کو ایران کی حمایت حاصل تھی۔تاہم پارلیمانی سیاست کو خیربادکہنے کے بعد سے الصدر نے ابھی تک اپنے نئے لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا ہے۔

عراقی حکومت نے نئے صدرکے انتخاب کے موقع پربغداد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور شہربھر میں چیک پوائنٹس قائم کیے تھے، پلوں اور چوکوں کو بند کر دیا تھا اور گرین زون کی طرف جانے والے کچھ پُلوں پر دیواریں کھڑی کر دی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں