’محاسبے کا وقت آگیا‘ یورپی یونین کا متفقہ طورپرایران پرپابندیوں کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے بدھ کی شام کو نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کو دبانے میں ملوث ایرانی اہلکاروں کو سزا دینے اوران پر پابندیاں عاید کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ برسلز میں یورپی ممالک کے سفیروں کی طرف سے طے پانے والے سیاسی معاہدے کی تصدیق یورپی یونین کے وزرائے خارجہ پیر کو لکسمبرگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران کریں گے۔

وہ "ہماری اقدار کا آفاقی کردار" رکھتے ہیں

اس تناظر میں فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے بدھ کو اعلان کیا کہ فرانس ایران میں مظاہرین کے ساتھ کھڑا ہے۔ فرانس 2 پر ایک انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں میکروں نے ان "خواتین اور نوجوانوں" کی تعریف کی جو نوجوان خاتون مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے تین دن بعد سے مظاہرے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم ان خواتین اور مردوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو ان اقدار کے لیے جدوجہد کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا دفاع اور حمایت کریں۔ بہت واضح انداز میں، فرانس آج ایرانی حکومت کی طرف سے روا رکھے جانے والے جبر کی مذمت کرتا ہے۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا جولی نے کہا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال سے بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ جولی نے ٹویٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ میں کہا کہ ایرانی حکومت کو مظاہرین کی مسلسل من مانی گرفتاری اور ناروا سلوک کو روکنا چاہیے۔

ان کے احتساب کرنے کا وقت آگیا ہے

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے ٹویٹر پر لکھا کہ "ہم نے خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کے ذمہ داروں سے جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ان کا احتساب کیا جائے۔ ایرانی عوام کو جس حیران کن تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کا جواب دیا جائے‘‘۔

یورپی پارلیمنٹ نے یورپی یونین کی بلیک لسٹ میں ایرانی حکام، خاص طور پر "اخلاقی پولیس" سے وابستہ تمام افراد کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ اخلاقی پولیس ہی مہسا امینی کی موت اور مظاہرین کے خلاف تشدد میں ملوث یا ذمہ دار ثابت ہوئی ہے۔

یورپی یونین کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر سزا پانے والے افراد کو یونین کی حدود میں داخلے سے منع کر دیا جاتا ہے اور رکن ممالک میں ان کے اثاثے منجمد کر دیے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں