الجزائر کی ثالثی میں فلسطینی دھڑوں کے درمیان مفاہمتی معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی سیاسی جماعتوں کے مختلف دھڑوں نے "اعلان الجزائر" پر دستخط کر دیے ہیں، جس میں ایک مفاہمتی معاہدہ بھی شامل ہے۔ اس معاہدے میں فلسطینی تنظیموں نے پندرہ برسوں کی اندرونی تقسیم کے بعد ایک سال کے اندر قانون ساز کونسل اور صدارتی انتخابات کرانے کا عزم کیا ہے۔

حکمران جماعت ’فتح‘ کے وفد کے سربراہ عزام الاحمد نے اعلامیے پر دستخط کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہمیں الجزائر میں مل کر اس اعلامیے پر دستخط کرنے پر فخر ہے۔ اس کے بموجب ہم فلسطینیوں کی صفوں می سرایت ہونے والی ’بے اتفاقی‘ کے مہلک کینسر سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔

الاحمد نے اعتماد اور امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اعلان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ یہ کہ "یہ کاغذ پر سیاہی نہیں رہے گا" اور عہد کیا کہ "فتح" تحریک اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے والی پہلی جماعت ہو گی۔

ٖٖFacebook/AlgerianPresidency
ٖٖFacebook/AlgerianPresidency

فلسطینی تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے جمعرات کے روز نئے مصالحتی معاہدے پر دستخط کرنے اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان 15 سالہ اندرونی تقسیم کے خاتمے کے عمل کو ایک تاریخی اور شاندار لمحہ قرار دیا۔

ہنیہ نے کہا کہ "یہ دن فلسطین، الجزائر اور عرب قوم کے اندر خوشی کا دن ہے اور صہیونی ریاست کے لیے ایک غم کا دن ہے۔"

ناکامیاں اور مہم جوئی

اس موقعے پر الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے کہا کہ "ہمیں یاد رکھنا چاہیے، 40 سال قبل اسی ہال (پیلیس آف نیشنز) میں اور ایک ہی چھت کے نیچے یاسر عرفات نے فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کیا تھا۔"

انہوں نے نشاندہی کی کہ فلسطینی کاز "تکلیفوں، مسائل اور مہم جوئی سے گذرا ہے، لیکن آج ایک تاریخی دن ہے کیونکہ پانی اپنے راستے پر لوٹ آیا ہے"۔ انہوں نے تمام فلسطینی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مفاہمتی معاہدے پر مبارک باد پیش کی۔

الجزائر کی میزبانی میں ہونے والے اس مکالمے میں 14 دھڑوں نے حصہ لیا، جن میں "حماس" اور "اسلامی جہاد" تحریکوں کے علاوہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے فریم ورک سے وابستہ تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے فلسطین نیشنل کونسل کے سیکرٹری جنرل کو معاہدے کا اعلامیہ پڑھ کر سنانے کی ذمہ داری سونپی۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں
حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں

فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا" نے کہا ہے کہ "فلسطینی اتحاد کے حصول کے لیے" کانفرنس کے شرکاء نے فلسطینیوں کے اتحاد میں الجزائر کی کوششوں اور کردار کو سراہا، خاص طور پر نومبر کے اوائل میں الجزائر میں ہونے والی عرب سربراہی کانفرنس سے پہلے فلسطینیوں کے درمیان یہ سمجھوتا اہمیت کا حامل ثابت ہو گا۔

عمل درآمد سے متعلق شکوک وشبہات

مبصرین کا خیال ہے کہ "فلسطینی دھڑوں نے ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جو عمومی نوعیت کا ہے اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کا فقدان ہے۔ البتہ یہ الجزائر کی فلسطینیوں کے ہاں اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ الجزائر معاہدہ 2007 میں فلسطینی دھڑوں کے درمیان پھوٹ کے بعد سے فلسطینی افواج اور دھڑوں کے درمیان طے پانے والے 10 سے زائد مفاہمتی معاہدوں میں سے ایک ہے لیکن فریقین بالخصوص دو حریف "فتح" اور حماس کے درمیان اعتماد کے فقدان کی وجہ سے ماضی میں طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

اعلان الجزائر کے موقع پر ہونے والی تقریب کا منظر: ٖٖFacebook/AlgerianPresidency
اعلان الجزائر کے موقع پر ہونے والی تقریب کا منظر: ٖٖFacebook/AlgerianPresidency

یاد رہے کہ قازقستان کے دورے پر آئے صدر محمود عباس کی عدم موجودگی نے بھی اس مفاہمتی معاہدے کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کو تقویت دی ہے۔

سنہ 2006 میں ہونے والے آخری فلسطینی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں "حماس" تحریک نے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم تحریک فتح اور عالمی برادری نے حماس کی کامیابی کو مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں