ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران بچوں کا قتل عام

پرتشدد مظاہروں کے ایک ماہ میں 23 بچے موت کی نیند سلا دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں مسلسل چوتھے ہفتے جاری رہنے والے مظاہروں کے بعد جہاں بڑی عمر کے افراد مارے گئے ہیں وہیں بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

چار ہفتے پیشتر ایران میں احتجاج اس وقت شروع ہوا تھا جب ایران کی مذہبی پولیس نے بائیس سالہ نوجوان خاتون مہسا امینی کو حجاج کے سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کی پاداش میں گرفتار کیا۔ پولیس کی حراست میں امینی کی موت کے بعد ملک بھرمیں احتجاج شروع ہوگیا تھا جو اب چوتھے ہفتے میں جاری ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام تک ایرانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کم از کم 23 بچے مارے جا چکے ہیں۔

تصاویر اور ناموں کے ساتھ

انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر ایران میں پولیس کی کارروائیوں میں جاں بحق ہونے والے 23 بچوں کی تصاویر اور ان کے ناموں کے ساتھ ان کی شناخت جاری کی ہے۔ مہلوکین میں تین بچیاں اور 20 بچے شامل ہیں۔

زیادہ تر لڑکے فائرنگ اور گولیوں سے مارے گئے جب کہ 3 لڑکیاں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شدید زدوکوب کیے جانےسے ہلاک ہوئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ 10 بچوں کا تعلق بلوچ قوم سے ہے جو جنوب مشرقی ایران سے تعلق ررکھتے ہیں۔ ان میں سے کم از کم سات کو سینےاور جسم کے نازک اعضا پر گولیاں ماری گئیں۔

گرفتاری مہم

یہ تعداد سکیورٹی فورسز کی جانب سے یونیورسٹی کے طلباء کے علاوہ اسکول کے بچوں کے خلاف شروع کی گئی کریک ڈاؤن کی ایک بڑی مہم کے دوران سامنے آئی ہے۔

کل ملک کی اعلیٰ ترین عدالتی اتھارٹی نے گرفتار فراد پربے رحم مقدمہ چلانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے 12 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ مظاہروں میں کم از کم 201 افراد ہلاک ہوئے۔

قابل ذکر ہے کہ 16 ستمبر (2022) کو امینی کی موت کے بعد حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہوگیا تھا۔ اس احتجاج میں بڑی ملک کے تقریبات تمام طبقات حصہ لے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں