ایران پر پابندیوں کے حامی 'یورپی ممالک نے تہران کی وارننگ مسترد کر دی'

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ہونے والے مذاکرات بھی معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے یورپی یونین کے ان رکن ممالک کو خبردار کیا ہے جو ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون کی وجہ سے تہران کو پابندیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس انتباہ کا اظہار ایران کی طرف سے دو الگ خطوط میں کیا گیا ہے۔ تاہم یورپی ملکوں نے ان خطوط میں دیے گئے انتباہ کو عملاً مسترد کر دیا ہے۔

ایک خط یورپی یونین کے سفیروں کو بھیجا گیا ہے اور دوسرا خط یورپی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل کے نام لکھا ہے۔

ایران کی طرف سے یورپی یونین کے سفیروں کو لکھے گئے خط میں خبر دار کیا گیا ہے کہ 'اگر یورپ ایران میں مظاہروں کے حوالے سے پیدا شدہ صورت حال کی جزئیات تک کو اپنا توجہ کا موضوع بنانے سے نہیں رکتا تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، نیز اس صورت حال میں دو طرفہ تعلقات برقرار نہیں رہ سکیں گے۔'

ایران کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپی ممالک کی ایران پر پابندیاں تہران سے تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ تاہم یورپی ممالک کے دارالحکومتوں میں ایرانی انتباہ کا اثر لینے کوئی تیار نہیں ہیں بلکہ آگے کی طرف جانا چاہتے ہیں۔'

یورپی ملکوں میں سمجھا جاتا ہے کہ ایرانی خط بے فائدہ ہیں کہ یورپی اتحاد بہت مضبوط ہے اور ایک خاص رفتار پکڑ چکا ہے۔' یورپی ملک ایران پر پابندیاں لگانے میں متفق ہیں۔ یورپی وزرائے خارجہ ان پابندیوں کو 17 اکتوبر کو باضابطہ آگے بڑھانے کا سوچیں گے۔

دوسری جانب یورپ ملک جو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ 2015 کی بحالی کے لیے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے بارے میں یورپی ملک سمجھتے ہیں کہ اب معطل ہو چکے ہیں۔

امریکہ نے بھی ان مذاکرات کے بارے کہہ دیا ہے کہ 'فی الحال ان پر ہماری توجہ نہیں ہے۔' خیال رہے بائیس سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت ایران کے اور ایران سے باہر یورپ و امریکہ میں ایک نئی صورت حال بنا دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں